Al-Risala · March 2009 · page 6

پیغمبر کا اُسوۂ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۶

پیغمبر کا اُسوۂ

قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اِس قصے کو قرآن میں احسن القصص (یوسف : 2) کہا گیا ہے۔ اِس قصے کے ’احسن القصص‘ ہونے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں، لیکن اِس کا ایک پہلو، حضرت یوسف کا وہ طریقِ کار (method) ہے جو انھوں نے بادشاہِ وقت کے معاملے میں اختیار کیا۔ اِس طریقِ معاملہ کو قرآن میں اِس طرح بتایا گیا ہے کہ بادشاہِ مصر نے حضرت یوسف کی شخصی صلاحیت سے متاثر ہو کر اُن سے کہا کہ تم کو میری سلطنت کے خزائن (یوسف: 55) پر اختیار ہوگا، تاہم جہاں تک ملک کے قانونی نظام کا تعلق ہے، اُس میں حسبِ سابق، بادشاہ کا قانون جاری رہے گا۔ اِسی بات کو بائبل میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے:

اور فرعون (شاہِ مصر) نے یوسف سے کہا: چوں کہ خدا نے تجھے یہ سب کچھ سمجھا دیا ہے، اِس لیے تیری مانند دانش ور اور عقل مند کوئی نہیں ۔ سو، تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا: Then Pharaoh said to Joseph, “Inasmuch as God has shown you all this, there is no one as discerning and wise as you. You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word; only in regard to the throne, will I be greater than you”. (Genesis 41:39-40)

حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا جو بادشاہ تھا، وہ ایک حقیقت پسند آدمی تھا۔ عام بادشاہوں کی طرف وہ جارحانہ مزاج کا انسان نہ تھا۔ چناں چہ وہ راضی ہو گیا کہ تخت کا مالک میں رہوں، لیکن اُمورِ سلطنت کو حضرت یوسف انجام دیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کی اِس پیش کش کو قبول کر لیا۔ بادشاہ کے برائے نام اقتدار کے تحت، وہ اپنا پیغمبرانہ مشن چلاتے رہے۔ قرآن کے مطابق، ہر پیغمبر کا عمل ہمارے لیے یکساں طور پر درست نمونے کی حیثیت رکھتا ہے (الأنعام: 90)۔ اِس بنا پر حضرت یوسف کا نمونہ بھی ہمارے لیے اتنا ہی قابلِ اتباع ہے، جتنا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page