Al-Risala · March 2009 · page 7

پیغمبر کا اُسوۂ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۷

پیغمبر اسلام یا اور کسی پیغمبر کا نمونہ۔ یہ نمونہ اس اصول پر مبنی ہے کہ اگر سیاسی حاکم اصل مشن میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اُس کو تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت، اپنے مثبت اور تعمیری کام کی منصوبہ بندی (planning) کی جائے گی۔

حضرت یوسف کو یہ موقع اس لیے ملا تھا کہ ان کا معاصر بادشاہ حقیقت پسند آدمی تھا۔ موجودہ زمانے میں اب یہ معاملہ کسی کے شخصی مزاج کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ یوسفی اصول اب عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول (universally accepted principle) کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اب اس دورِ آزادی میں تمام حکم رانوں نے یہ مان لیا ہے کہ وہ اپنے مخصوص سیاسی دائرے کے باہر کسی معاملے میں تعرض نہیں کریں گے۔ لوگوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جس طرح چاہیں، اپنے امور کی تنظیم کریں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کا کوئی فعل نہیں کریں گے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں جو چیز استثنائی موقع کی حیثیت رکھتی تھی، وہ اب عمومی موقع کی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ اس موقع کو دعوتِ حق کے لیے استعمال کرنا، پیغمبر کے طریقے کی پیروی ہے۔ اور اس کے خلاف عمل کرنا، پیغمبر کے طریقے سے انحراف (deviation) کے ہم معنی ہے۔ مذکورہ یوسفی اُسوہ کی مثال خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام اپنی نبوت کے ابتدائی زمانے میں جب مکہ میں تھے تو اُس وقت آپ کو مکہ میں سیاسی اقتدار حاصل نہ تھا۔ مکہ کے قبائلی پارلیمنٹ دارالندوہ میں مشرک قبائل کو غلبہ حاصل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دارالندوہ پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ مکہ میں سیاسی اقتدار یا دارالندوہ پر قبضہ کیے بغیر دعوت کے جو مواقع آپ کو حاصل تھے، اس کو آپ استعمال کرتے رہے۔ مزید یہ کہ اُس زمانے میں مشرکین کی طرف سے آپ کو اقتدار کی پیش کش کی گئی، لیکن آپ نے اس کو قبول نہیں کیا اور فرمایا: ما أطلب الملك عليكم ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکومت پر قبضے کے بغیر اگر مجھے دعوتی مواقع حاصل ہیں تو وہی میرے لیے کافی ہیں، مجھے تمھارے اوپر حاکم بننے کی ضرورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page