Al-Risala · March 2009 · page 23

غلط فہمی سے بچئے

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳

غلط فہمی سے بچئے

ایک بار مجھے ایک شہر میں ایک پروگرام میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ واپسی میں پروگرام کے ناظم نے مجھے ایک بند لفافہ دیا۔ میں نے اس لفافے کو لے کر اپنی جیب میں رکھ لیا اور واپس چلا آیا۔ اُس وقت ایک صاحب وہاں موجود تھے۔ انھوں نے مجھ سے اس لفافے کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔ بہ طور خود انھوں نے قیاس کر لیا کہ اس لفافے میں دس ہزار روپے تھے۔ اپنے قیاس کو لے کر انھوں نے دوسروں سے اس کا چرچا بھی شروع کر دیا۔

بعد کو میرے پاس ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ فلاں صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اُس وقت وہاں موجود تھے۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مجھ کو ناظم پروگرام نے دس ہزار روپے کا لفافہ دیا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ــــ اس زمانے میں مولویوں کو بہت اچھا کاروبار مل گیا ہے۔ ایک تقریر کرو اور دس ہزار روپے لے لو۔

میں نے انھیں بتایا کہ اس لفافے میں دس ہزار روپے نہیں، بلکہ پانچ ہزار روپے تھے۔ اس میں پچاس پچاس روپے کے نوٹ تھے، اس لیے لفافہ موٹا دکھائی دے رہا تھا اور اس بنا پر انھوں نے اُس کو دس ہزار روپے سمجھ لیا۔ پھر میں نے بتایا کہ یہ روپیہ میرا نہیں تھا، وہ دہلی کے ایک صاحب کا تھا، جنھوں نے ناظم پروگرام کے کہنے پر مجھ کو مذکورہ سفر کے لیے جہاز کا رٹرن ٹکٹ خرید کر دیا تھا جس کی قیمت پانچ ہزار روپے تھی۔ یہ ایک امانت تھی جس کو مجھے اُن صاحب کو پورا کا پورا ادا کرنا تھا۔ چناں چہ دہلی واپسی کے بعد میں نے فوراً مذکورہ صاحب کو بلا کر وہ پوری رقم ان کے حوالے کر دی۔ مزید میں نے مذکورہ صاحب سے ایک تحریر لی، جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ وہ پوری رقم میری تھی اور مجھ کو واپس مل گئی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمی کس طرح پیدا ہوتی ہے، وہ اکثر خود ساختہ قیاس کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ تحقیق کے بغیر محض قیاس اور گمان کی بنا پر کسی کے خلاف بری رائے نہ قائم کرے۔ اس قسم کی رائے زنی بلاشبہ ایک ایسا گناہ ہے جس پر خدا کے یہاں سخت پکڑ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page