Al-Risala · March 2009 · page 43

مسئلے کا یقینی حل

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳

کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ ایک نہایت خطر ناک بھول ہے جس میں موجودہ زمانے کے بیشتر مسلمان مبتلا ہیں۔ آج کل اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی دنیوی ترقی کے معاملے میں تو ’’ ڈیپ‘‘ میں جاتے ہیں، لیکن آخرت کے معاملے میں وہ صرف کچھ رسمی اعمال کو کافی سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک دہرا معیار ہے۔ اسی دہرا معیار کا دوسرا نام منافقت ہے، اور منافقت کسی آدمی کو خدا کے غضب کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ خدا کی رحمت کا مستحق۔

اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اپنی دنیا کے معاملے میں سادگی پر قانع ہو۔ وہ صرف ضروری حد تک اپنے آپ کو دنیا کی چیزوں میں مشغول کرے۔ اس کے بعد جہاں تک دین کا اور آخرت کا معاملہ ہے، وہ اُس میں پوری طرح ڈِیپ میں جائے۔ وہ زیادہ سے زیادہ گہرائی کے ساتھ دین اور آخرت کے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس کے بغیر کسی کو آخرت کی جنت ملنے والی نہیں۔ جنت کی قیمت کچھ رسمی اعمال نہیں ہیں۔ جنت میں صرف وہ انسان داخل کیا جائے گا جس نے اپنا تزکیہ کیا ہو۔ تزکیہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ تزکیہ ذہنی عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ آدمی جب خدا کی کتاب کو تدبر کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ جب اپنا محاسبہ کرتا ہے، وہ خشوع والی عبادت انجام دیتا ہے، وہ خدا رخی زندگی (God-oriented life) اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر ایک مزّگی شخصیت (purified personlity) بنتی ہے۔ یہی مزّگی انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت میں جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔ امانی یا خوش فہمی (wishful-thinking) کے ذریعے کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔

سوال

انسان نے اپنی تاریخ کے روزِ اول سے ہی رضائے الہی حاصل کرنے کے لیے مذہب، خدا اور دیوی دیوتاؤں کے نام پر معصوم جانوروں کا بے رحمانہ قتل (قربانی) کا ثواب تصور کر لیا تھا جس کے باعث ان بے زبان و بے قصور حیوانات کا بے دریغ قتل (قربانی) ایک عوامی روایت بن گئی تھی۔ ان حالات میں خدا کی اس بے زبان مخلوق کے اس بے رحمانہ قتل کے خلاف بھگوان مہاویر اور راج کمار

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page