مسئلے کا یقینی حل
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴
سدھارتھ (گوتم بدھ) نے ایک درد بھری آواز اٹھائی۔ انھوں نے انسان کی روح کو یہ بھی احساس کرایا تھا کہ خدا کی اس غیر انسانی مخلوق میں بھی انسان کی طرح ہی روح وجان اور جذبے کا احساس موجود ہے اور ان کے قتل کے وقت انھیں بھی انسان کی طرح تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ مہاویر سوامی نے تو اہنسا کو ہی سب سے مقدس روحانیت قرار دیا ہے۔ مہارشی دیانند سرسوتی نے ہندو دھرم کے گرنتھوں میں موجود بلی پر تھا (رسم قربانی) کو وید، مذہب اور روحانیت کے خلاف اور قابل ترک ثابت کیا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں بلی پر تھا (رسم قربانی) آج ہند و فرقوں میں اپنے آخر پر ہے۔ لیکن مسلم سماج میں آج بھی جانور کی قربانی کو مذہبی فرض مانا جاتا ہے۔ خصوصاً عید الاضحی کے موقع پر عید قرباں منائی جاتی ہے۔ اس میں بے زبان ومعصوم جانوروں کو بڑی بے دردی و بے رحمی سے قتل کیا جاتا ہے۔ براہ کرم، اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (رنگی لال آریہ (ایڈوکیٹ)، سہارن پور)۔
جواب
آپ نے ’’قتلِ حیوان‘‘ کے حوالے سے گوتم بدھ اور مہاویر کی جس تعلیم کا ذکر کیا ہے اور اُس کے مقابلے میں اسلام پر جو تبصرہ فرمایا ہے، وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دراصل غیر سائنسی دور اور سائنسی دور کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔ سائنسی دور سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ قتل کا لفظ تو صرف حیوان اور انسان سے تعلق رکھتا ہے، اور جہاں تک دوسری چیزوں کا تعلق ہے، اُن پر قتل کا لفظ چسپاں نہیں ہوتا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے بتایا ہے کہ حیوان اور انسان کے علاوہ، دوسری چیزوں میں بھی زندگی پائی جاتی ہے۔ مثلاً پانی اور دودھ اور سبزی اور پھل، وغیرہ۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو موجودہ سائنسی زمانے میں گوتم بدھ اور مہاویر کی تعلیمات غیر متعلق (irrelevant) ہو چکی ہیں۔ آج اگر گوتم بدھ اور مہاویر زندہ ہوتے اور وہ خوردبین (microscope) کے ذریعے پانی اور دودھ اور سبزی اور پھل کو دیکھتے تو بلاشبہ وہ اعلان کر دیتے کہ ہم غلطی پر تھے۔ سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ وہی بات درست ہے جو بہت پہلے اسلام میں بتائی گئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues