Al-Risala · April 2009 · page 28

پہلی واپسی ، دوسری واپسی

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸

کے اعتبار سے کسی دشمن کے خلاف جنگ نہیں ، بلکہ وہ حقیقت(reality) کے خلاف جنگ ہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقت کے خلاف لڑ کر کوئی بھی شخص یا گروہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بائبل کے بیان کے مطابق، فلسطین یہود کے لیے ارض موعود (promised land) ہے (استثناء: 8:1)۔ یہی بات قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے کہ فلسطین یہود کے لیے ارض مکتوب (assigned land) ہے(المائدۃ: 21)۔ اس طرح بائبل اور قرآن دونوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہودی تارکین وطن (Jews in diaspora) کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اصل وطن کی طرف واپس جا کر وہاں آباد ہوں۔ پھر قرآن سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہودی تارکین وطن دوبار بڑے پیمانے پر اپنے وطن کی طرف واپس ہوں گے۔ واپسی کا پہلا واقعہ حضرت موسیٰ کے بعد یوشع بن نون کے زمانے میں ہوا۔ اسی طرح قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت سے پہلے یہودی تارکین وطن دوسری بار مختلف ملکوں سے سمٹ کر فلسطین واپس آئیں گے۔ یہ واقعہ بطور پیشین گوئی قرآن کی سورہ نمبر 17 میں آیا ہے (الإسرَاء: 104)۔ اس آیت کی تشریح میں مفسر ابو الحسن الماوردی (وفات 1058ء) نے تین اقوال نقل کیے ہیں۔ اُن میں سے ایک قول یہ ہے: وعد الآخرة: أي وعد الكرّة الآخرة في تحويلهم إلى أرض الشام (تفسير النكت والعيون) یعنی اس آیت میں وعدۂ ثانی سے مراد یہودی تارکین وطن کی شام (فلسطین) کی جانب دوسری واپسی ہے۔

یہودی تارکین وطن کو دوبارہ فلسطین میں بسنے کا موقع دینا ایک عظیم واقعہ تھا۔ اس کا تقاضا تھا کہ یہودی، خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی دیرینہ قومی آرزو کو پورا کیا۔ دوسری طرف، ان کے پڑوسی مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ یہود کو دعوتِ حق کا مخاطب بنائیں، وہ ان کو سچائی کا پیغام دیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں دونوں ہی گروہ ناکام ثابت ہوئے۔ نہ یہود نے خداوند ذوالجلال کا شکر ادا کیا، اور نہ مسلمانوں نے اپنی دعوتی ذمے داری کو انجام دیا۔ اس اعتبار سے دونوں کا کیس بالکل ایک ہے۔ چناں چہ دونوں ہی فریق خدا کی نصرت سے محروم رہ گئے، یہودبھی اور مسلمان بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page