Al-Risala · April 2009 · page 29

بلند فکری

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹

بلند فکری

موجودہ دنیا میں آدمی ہر وقت قریبی حالات میں گھرا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں صحیح سوچ کا مالک صرف وہ شخص بنے گا جو اپنے اندر بلند فکری (high thinking) کی صفت پیدا کرے، وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، وہ غیر متاثر ذہن کے تحت معاملات پر رائے قائم کرے۔ اس طرزِ فکر کا فارمولا صرف ایک ہے_ اپنی سطح سے اوپر اٹھ کر سوچنا:

To think beyond the limit.

آدمی ہمیشہ کچھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو بار بار ناخوش گوار قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ ان ناخوش گوار تجربات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر بطور ردّ عمل طرح طرح کے غیر حقیقی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غصہ، حسد، نفرت، انتقام، احساسِ برتری، یا احساسِ کم تری، وغیرہ۔ ہر آدمی اسی قسم کے منفی احساسات کے درمیان زندگی گزارتا ہے_ یہ احساسات جو ہمیشہ ردّعمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں، وہ انسان کو غیر حقیقت پسندانہ سوچ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ کر غیر فطری راستے پر چلنے لگتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، وہ متاثر ذہن کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے_ وہ اپنے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو غیر متعصّبانہ ذہن، یا تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی انسان اس دنیا میں درست انداز میں سوچے گا اور اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی کرے گا اور آخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچے گا۔ بلند فکری کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ بلند فکری میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ ڈسٹریکشن (distraction) ہے، یعنی ذہن کا مختلف سمتوں میں منتشر ہو جانا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے ذہنی انتشار سے بچائے، تاکہ وہ اپنے اندر صحتِ فکر کو قائم رکھ سکے۔ یہ دراصل صحتِ فکر ہی ہے جو انسان کو حیوان سے ممیّز کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page