Al-Risala · April 2009 · page 44

بل تو اپنا بل

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴

ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، علومِ آلیہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں زندگی کی تعمیر و تشکیل کے لیے مددگار علم کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اہل ایمان کے لیے دونوں کا حصول ضروری ہے۔ سوال قرآن کی سورہ الصافات کی آیت نمبر 8 میں شیطان کے مارنے کی بابت تذکرہ آیا ہے۔ یہاں شیطان کو مارنے سے کیا مراد ہے۔ تذکیر القرآن صفحہ 1223 پر اس کی تشریح درج ہے۔ مگر بار بار اس کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی میں اس کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ (شاہ عمران حسن، نئی دہلی) جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ علوم کی دو قسمیں محکمات، اور متشابہات (آل عمران : 7) محکمات سے مراد وہ علم ہے جس میں ضروری معلومات (data) قابلِ حصول ہوں اور اس بنا پر ان کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ممکن ہو۔ علم کی اس قسم کے بارے میں غور و فکر کرنا ایک مطلوب چیز ہے اور اس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔

متشابہات سے مراد وہ علم ہے جس میں ضروری معلومات قابل حصول نہ ہوں۔ ایسے علمی شعبے میں ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم علمِ قلیل (الإسراء : 85) پر قناعت کریں، اور مجمل علم سے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کریں۔ کیوں کہ ایسا کرنا ہمیں کسی یقینی علم تک نہیں پہنچائے گا، بلکہ وہ ہمیں کنفیوژن میں مبتلا کر دے گا۔ سورہ الصافات کی مذکورہ آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ اسی علمِ قلیل کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو علمِ کثیر کے زمرے میں لاکر اس کی تفصیل جاننے کی کوشش کرنا صرف ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ اس کے نتیجے میں آدمی کو کنفیوژن کے سوا اور کچھ ملنے والا نہیں۔ اس طرح کے معاملات میں آدمی کے لیے صرف ایک ہی ممکن راستہ ہے، وہ یہ کہ آدمی اُن کی کُنہ تک پہنچنے کے بجائے، اپنی محدودیت (limitations) کو جاننے کی کوشش کرے۔ اس طرح کے معاملات میں اپنی محدودیت کو جاننا ہی سب سے بڑا علم ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page