Al-Risala · May 2009 · page 4

اعظم گڑھ کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴

(superiority complex) میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ ان کی دنیوی کامیابی نے شاید اُن کو احساسِ برتری میں مبتلا کر دیا ہے۔ اِسی بنا پر وہ میری بات کو ماننے پر تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ میں نے اپنے اِس احساس کو دوسروں سے بیان نہیں کیا، بلکہ اْس پر سوچنے لگا۔ میرا مزاج یہ ہے کہ میں کسی کے بارے میں اس کی نیت کو لے کر رائے قائم نہیں کرتا، بلکہ خالص عقلی انداز میں اس کی توجیہہ کرتا ہوں۔ چناں چہ میں نے اس واقعے کو لے کر سوچنا شروع کر دیا۔ آخر کار مجھ پر ایک نئی حقیقت کھلی جو اس سے پہلے میرے اوپر پوری طرح واضح نہ تھی۔ وہ یہ کہ فطری تقسیم کے مطابق، ذہانت کی دو قسمیں ہیں۔ فکری ذہانت (intellectual intelligence) اور پروفیشنل ذہانت (professional intelligence)۔ اُس وقت مذکورہ صاحب سے میں نے جو بات کہی، اْس کا تعلق فکری ذہانت سے تھا، مگر وہ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے پروفیشنل ذہانت والے آدمی تھے۔ ایسا آدمی ٹکنکل پوائنٹ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، لیکن فکری بات کو سمجھنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتگو میں اِس فرق کو ملحوظ رکھے۔ غالباً اِس بات کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَلِّم الناس علی قدر عقولهم۔ یعنی لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو۔ مذکورہ واقعے کے مطابق، کنڈیشننگ کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی واقعے کو غلط زاویہ نگاہ (wrong angle) سے دیکھتا ہے اور اس کے مطابق، اپنی ایک رائے قائم کر لیتا ہے جو واقعے کے مطابق نہیں ہوتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو ہمیشہ صحیح زاویہ نگاہ (right angle) سے دیکھنے کی کوشش کرے ۔ اور اگر کوئی غلط رائے اس کے ذہن میں آجائے تو وہ فوراً اپنا محاسبہ (introspection) کرے اور اِس طرح اپنے ذہن کو درست کرے۔ یہ محاسبہ بے رحمانہ محاسبہ ہونا چاہیے، ورنہ ڈی کنڈیشننگ کا عمل درست طور پر انجام نہ پا سکے گا۔

آج (29 دسمبر 2008) کے اخبار میں ایک خبر یہ تھی کہ مشہور امریکی رائٹر سموئیل ہنٹنگٹن (Samuel Huntington) کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 81 سال تھی۔ ان کو اپنی ایک کتاب کی بنا پر کافی شہرت ملی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا:

The Clash of Civilization and the Remaking of World Order (1996)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page