Al-Risala · May 2009 · page 5

اعظم گڑھ کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۵

سموئل ہنٹنگٹن کے یہ خیالات پہلے ایک آرٹیکل کی صورت میں فارن افیرس (Foreign Affairs) میگزین میں چھپے۔ اس کے بعد مزید اضافے کے ساتھ اُس کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ مصنف نے اپنی اس کتاب میں بتایا تھا کہ مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان ٹکراؤ (conflict) ناگزیر ہے جس طرح اس سے پہلے وہ صلیبی حملہ (crusade) کی شکل میں پیش آیا تھا۔ 11 ستمبر 2001 کو کچھ مسلم انتہا پسندوں نے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس کے بعد برابر اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے تو سمجھ لیا گیا کہ ہنٹنگٹن کے بیان کے مطابق، مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان دوسری کروسیڈ شروع ہو چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹکراؤ کسی نہ کسی صورت میں پیش آ چکا ہے، لیکن یہ ٹکراؤ اسلام اور مسیحیت کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ مسلم قوم اور مسیحی قوم کے درمیان ہے۔ وہ ایک قومی ظاہر ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی ظاہر ہے۔

راستے میں شاہ گنج کا ریلوے اسٹیشن آیا۔ یہاں ٹرین رکی تو شاہ گنج سے متعلق بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔ شاہ گنج میں پہلے سے بڑی لائن (broad guage) تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں اسٹیشن کے قریب ریلوے لائن کے کنارے کھڑا تھا۔ اس دوران ایک ایکسپریس ٹرین وہاں سے گزری تو اچانک میری زبان سے نکلا— خدا کی قدرت کا دوڑتا ہوا نشان ۔ ٹرین جب میدانی علاقوں سے گزرتی ہے تو ریلوے لائن کے دونوں طرف پھیلے ہوئے قدرتی مناظر میرے لیے ایمان میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔

آزادی سے پہلے (1945) اسی شاہ گنج سے میں نے ایک انوکھا سفر کیا تھا۔ میں اپنے گاؤں سے پیدل روانہ ہو کر شاہ گنج پہنچا۔ یہ میرے تلاش حق کا زمانہ تھا۔ میں چل رہا تھا اور میری زبان پر یہ شعر جاری تھا : چلا ہے شوق بے خبر، جنوں میں جانے کدھر نہ کوئی منزلِ سفر، نہ قیدِ کچھ مقام کی شاہ گنج اسٹیشن سے میں ایک ایکسپریس ٹرین سے سوار ہوا جو اس وقت سیدھی لاہور (پاکستان) جاتی تھی۔ یہ ایک عجیب سفر تھا۔ میرے پاس غالباً واپسی کا کرایہ بھی نہ تھا۔ میرے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔ لیکن میں ایک نامعلوم شوق کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ میرا یہ سفر جزئی طور پر سوامی وویکانند

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page