اعظم گڑھ کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۶
(وفات: 1902) کے سفر سے مشابہ تھا۔ وہ 1893 میں بحری جہاز کے ذریعے کلکتہ سے امریکا (شکاگو) کے لیے روانہ ہوئے۔ اِس سفر میں اُن کے ایک دوست نے ایک طرف کے کرایے کا انتظام کر دیا تھا اور سوامی وویکانند کے پاس واپسی کے کرایے کے لیے پیسے نہ تھے۔ امریکا کے ایک شخص کے تعاون سے سوامی وویکانند اپنے وطن (کلکتہ) واپس آئے۔ اِسی طرح میں لاہور کی ایک ٹیلرنگ شاپ (B. Lilaram & Sons) کے تعاون سے اعظم گڑھ واپس آیا۔ اِس سفر کی بعض باتیں راقم الحروف کی کتاب’’ہند۔ پاک ڈائری‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
30 دسمبر 2008 کو ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔ پہلے یہاں میٹر گیج (metre gauge) ہوا کرتی تھی۔ اب یہاں شاہ گنج اور مئو کے درمیان براڈ گیج (broad gauge) بن گئی ہے۔ اب یہاں سے کئی گاڑیاں دور کی مسافت (distant destination) تک کے لیے جاتی ہیں۔ مثلاً اعظم گڑھ سے دہلی کے لیے اور اعظم گڑھ سے بمئی کے لیے، وغیرہ۔ لیکن جہاں تک اسٹیشن کی عمارت کا تعلق ہے، اُس میں کوئی بڑی توسیع نہیں ہوئی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کی طرف سے یہاں ایک بڑا ریلوے اسٹیشن بننے والا ہے۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ڈاکٹر احمد صفی انصاری اور مسٹر ظہیر الاسلام ظلی موجود تھے۔ یہ لوگ اس علاقے کے ذمے دار افراد ہیں اور مفید سماجی کام انجام دے رہے ہیں۔ اس علاقے میں دونوں حضرات کو معزز حیثیت حاصل ہے۔ ان لوگوں کے ذریعے اس علاقے میں کئی پروگرام ہوئے۔ اس بار میں تقریباً چالیس سال کے بعد اس علاقے میں آیا تھا۔ اس سے پہلے مجھے بار بار اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک بار میں اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کی ونڈو پر کھڑا ہوا تھا۔ ایک دیہاتی آدمی ٹکٹ لینے کے لیے آیا۔ اُس کے پاس نوٹ نہیں تھے۔ وہ اپنی مٹھی میں بہت سی ریزگاری لیے ہوئے تھا۔ اُس نے ونڈو پر جب ٹکٹ لینے کے لیے ریزگاری پیش کی تو ونڈو کے پیچھے بیٹھا ہوا کلرک غصہ ہو گیا۔ اُس نے یہ کہہ کر اُس کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا کہ اتنی ساری ریزگاری میں کب تک گنوں گا۔ میں نے اپنی جیب سے نوٹ نکالے اور