اعظم گڑھ کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۷
اس دیہاتی آدمی سے کہا کہ یہ نوٹ تم لے لو اور اپنی ریزگاری مجھے دے دو۔ آدمی کچھ بولا نہیں، وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ کر باہر چلا گیا۔ اُس دیہاتی آدمی سے دوبارہ میری گفتگو نہ ہوسکی۔ میں نے سوچا کہ اُس آدمی نے ایسا کیوں کیا۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب بے اعتمادی (mistrust) ہے۔ آج کل کے حالات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے اوپر اعتماد باقی نہیں رہا۔ اُس دیہاتی آدمی نے غالباً یہ سمجھا کہ میں اُس کو جعلی نوٹ دے کر اس کی ریزگاری حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بے اعتمادی بلاشبہ موجودہ زمانے میں ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اپنے تجربے کے مطابق، یہاں میں ایک بات لکھنا چاہوں گا۔ جب کوئی ادارہ یا کوئی تنظیم کسی شخصیت کو اپنے یہاں بلاتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ وہاں سے شکایت لے کر واپس آتے ہیں۔ میں عرصے تک اس پر غور کرتا رہا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اپنے موجودہ سفر میں میں نے اس کی حقیقت کو سمجھا۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اگرچہ شکایت دوسروں کی کرتے ہیں، لیکن غلطی خود ان کی اپنی ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت دیتا ہے، جیسا کہ میرے ساتھ اس سفر میں ہوا، تو فطری اصول کے اعتبار سے وہ صرف دو چیزیں آپ کو فراہم کرتا ہے۔ ایک، انفراسٹرکچر (infrastructure)، یعنی سفری انتظام، قیام کی سہولتیں اور ضروری اسباب کی فراہمی، وغیرہ، اس کو انفراسٹرکچر کہا جاسکتا ہے۔ دوسری چیز جو مدعو شخصیت کو اُس سے ملتی ہے، وہ اُس کی علاقائی ساکھ (goodwill) ہے، جو مدعو شخصیت کے لیے بے حد کار آمد ہوتی ہے۔ فطری طور پر یہی دو چیزیں ہیں جو دعوت دینے والا ادارہ آپ کو فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد دوسری چیز وہ ہے جس کا تعلق آپ کے اپنے پروگرام سے ہے۔ یہ آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کام ہے کہ وہ آپ کے پروگرام کی منصوبہ بندی کریں۔ اس معاملے میں آپ کی منصوبہ بندی جتنی زیادہ اچھی ہوگی، اتنا ہی زیادہ آپ کا پروگرام بھی کامیاب ہوگا۔ اگر آپ کا پروگرام زیادہ کامیاب نہ ہو تو اس کا سبب خود اپنی منصوبہ بندی میں ڈھونڈیئے۔ دوسروں کو ہرگز اُس کا ذمے دار نہ ٹھہرائیے ۔ ایسا کرنے کی صورت میں آپ غیر ضروری طور پر شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور اس قسم کی