Al-Risala · May 2009 · page 13

اعظم گڑھ کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

گے، وہ اُس کو مان لیں گے۔ اِس کے بعد مسٹر سؤنڈ دونوں کا غذات کو چند دن دیکھتے رہے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ ہندو ٹھیکے دار کی مانگ غلط ہے۔ پیپر کے مطابق، یہ زمین پوری کی پوری خاں صاحب کی ہے۔ چناں چہ انھوں نے مکمل طور پر میرے بھائی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ زمین آج بھی 9- بدرقہ روڈ کا ایک حصہ ہے۔ اِس سفر کے دوران میں نے اس زمین کو دوبارہ دیکھا۔ محلہ بدرقہ کا مکان ہمارے بھائی نے خرید کر حاصل کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اسی علاقے کے ایک اور مکان میں رہتے تھے۔ یہ مکان کرایے پر تھا اور اس کا نام ’’باقی منزل‘‘ تھا۔ باقی منزل کے ایک کمرے میں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اعظم گڑھ میں میری بیوی کی ایک سہیلی تھیں، اُن کا نام رضیہ تھا۔ رضیہ کے شوہر اور باپ دونوں وکیل تھے۔ معاشی اعتبار سے بظاہر اُن کا تعلق ایک آسودہ فیملی سے تھا۔

ایک دن میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ واپس آ کر جب میں باقی منزل میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں میری بیوی سابعہ خاتون (وفات 2006) بیٹھی ہوئی تھیں۔ داخل ہوتے ہی انھوں نے جو پہلی بات کہی، وہ یہ تھی کہ رضیہ کہتی ہیں کہ تمھارے شوہر کوئی معاشی کام نہیں کرتے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی کمائی پر رہتے ہیں۔ ان کی زندگی تو اس طرح گزر جائے گی، لیکن اُن کے بعد تمھارا اور تمھارے بچوں کا کیا حال ہوگا۔ اُس وقت میری بیوی کمرے میں ایک چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھیں اور میں وہاں ان کے پاس کھڑا تھا۔ میں نے کھڑے کھڑے جواب دیا۔ مجھے وہ الفاظ اب تک یاد ہیں جو میں نے اُس وقت کہا تھا۔ میں نے کہا کہ— رضیہ سے کہہ دو کہ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔ یہ الفاظ جو اچانک میری زبان سے نکلے تھے، غالباً الہامی الفاظ تھے۔ میری بعد کی پوری زندگی ان الفاظ کی تصدیق بن گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح میری زندگی پر صادق آتے ہیں: وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 3) اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں اعظم گڑھ کی سڑکوں پر میں بار بار چلتا رہا ہوں۔ ان سڑکوں سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ وہ ہے جو 15 اگست 1947 کی رات کو پیش آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page