Al-Risala · May 2009 · page 14

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۴

جیسا کہ معلوم ہے، 15 اگست 1947 کی رات ہندوستان کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی۔ اسی لیے اس موضوع پر چھپنے والی ایک کتاب کا نام یہ ہے۔ آدھی رات کی آزادی:

Freedom At Midnight

مگر یہ تجربہ نہایت وقتی تھا۔ الجمعیۃ ویکلی میں اس تجربے کا ذکر کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ 15 اگست 1947 کی رات کو خوشیوں کے جو چراغ جلائے گئے تھے، وہ سب اگلی صبح کو بجھ چکے تھے۔ یہ چراغ دوبارہ نہیں جلائے گئے۔ مولانا اقبال احمد خان سہیل (وفات: 1955) نے آزادی کے اوپر اس سے پہلے بہت سے اشعار کہے تھے۔ لیکن آزادی کے بعد اُنھیں سخت مایوسی ہوئی۔ چناں چہ انھوں نے بعد کو حسب ذیل شعر لکھا:

شبِ غم کاٹ دی تھی، جس کے جاں پرور تصور میں چھپی ہے شب کے پردے میں، وہ صبحِ زرنگاراب تک میری نو جوانی کے زمانے میں اعظم گڑھ کے شبلی نیشنل کالج میں ایک صاحب اُس کے شعبہ انگریزی میں استاد تھے۔ تعلیم کے اعتبار سے اُن کا مضمون انگلش لٹریچر تھا، لیکن خیالات کے اعتبار سے وہ کمیونسٹ تھے۔ دن کے وقت وہ کالج میں پڑھاتے تھے اور شام کو اعظم گڑھ کے چوک میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر کمیونسٹ اخبار بیچتے تھے۔ گویا کہ دن کے وقت وہ ایک پروفیسر تھے اور شام کے وقت وہ ایک ہاکر۔ اُس وقت وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ۔ دیکھو، میں کالج کا پروفیسر ہوں اور یہاں سڑک کے اوپر کھڑے ہو کر کمیونسٹ پارٹی کا اخبار بیچ رہا ہوں۔ ایسی پارٹی کی کامیابی کو کون روک سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کمیون ازم کا نظام ساری دنیا میں قائم ہو کر رہے گا۔ آج میں سوچتا ہوں تو کالج کے مذکورہ استاذ کی بات صرف ایک بے بنیاد خوش فہمی معلوم ہوتی ہے۔ کمیونسٹ نظام 1917 میں روس میں قائم ہوا۔ یہ ایک کُلّیت پسند نظام تھا۔ اُس زمانے میں پریس اور میڈیا کے ذریعے مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ کمیونسٹ روس میں سرخ جنت بسی ہوئی ہے۔ لیکن 1991 میں جب سوویت روس ٹوٹ کر بکھر گیا اور اس کے گرد آہنی دیواریں باقی نہ رہیں، تو ساری دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page