Al-Risala · May 2009 · page 15

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵

نے دیکھ لیا کہ سرخ جنت کے اندر صرف سرخ جہنم بسی ہوئی تھی۔

ی واقعہ نام نہاد اسلام پسندوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اسلام پسند لوگ بھی اپنے خودساختہ نظریے کے تحت ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی نظام بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ خواب ابھی تک ٹوٹانہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کا سیاسی نظریہ ابھی تک صرف نظریاتی دور میں ہے۔ اُس نے ابھی تک کسی عملی نظام کی صورت اختیار نہیں کی۔ اسی لیے بہت سے نوجوان ابھی تک اس کے نظریاتی سحر میں جی رہے ہیں۔ عملی نظام کی صورت اختیار کرنا اور عملی نظام کی ناکامی کی صورت میں اس کا منفی انجام دیکھ لینے کا واقعہ اُن کے اوپر ابھی تک نہیں گزرا۔

1947 کے بعد کئی سال تک میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا۔ اُس وقت میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کے ساتھ باقی منزل (محلہ بدرقہ) میں رہتا تھا۔ بچپن سے میرے مزاج میں شدت پسندی تھی ۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مجھے کسی سے اختلاف ہوتا تو میں نہایت شدید انداز میں اُس پر تنقید کرتا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ میرے اندر خود احتسابی کا مزاج بھی بہت زیادہ تھا۔ چناں چہ تنقید کے بہت جلد بعد مجھے احساس ہو جاتا تھا کہ میری بات اگر چہ درست تھی، لیکن میں نے اپنی رائے کو ظاہر کرنے کے لیے جو سخت انداز اختیار کیا، وہ بہ اعتبار انداز درست نہ تھا۔ میرا یہ احساس اتنا شدید ہوتا تھا کہ میں فوراً یہ کوشش کرتا تھا کہ میں اُس آدمی سے مل کر اُس سے معافی مانگوں۔ میرے ایک ساتھی مولانا احمد محمود اصلاحی اُس زمانے میں اعظم گڑھ میں رہتے تھے۔ انھوں نے ایک بار میرے اس مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ ـــــ یہ اگر کسی کے یہاں بے وقت ملنے کے لیے آئیں تو سمجھ لو کہ وہ اُس سے معافی مانگنے کے لیے آئے ہیں۔ میرے مزاج کی یہ شدت اکثر ایسے معاملات میں ظاہر ہوتی تھی جن کا تعلق سماجی اخلاقیات یا آداب حیات سے ہو۔ مثلاً کسی کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے، یا کسی کو دیکھا کہ وہ فضول خرچی کر رہا ہے، یا کسی نے وعدہ کیا اور اُس نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا، یا کسی شخص نے مقرر وقت پر اپنے کام کو انجام نہیں دیا، یا کسی شخص نے بات چیت میں کوئی بے اصولی کی بات کہہ دی، اس

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page