Al-Risala · May 2009 · page 16

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶

طرح کے معاملات میں اکثر میں بہت شدید ہو جاتا تھا اور نہایت سخت انداز میں اس کی گرفت کرتا تھا، چاہے وہ شخص چھوٹا ہو یا بڑا۔ مجھے اکثر یہ احساس ہوتا تھا کہ مجھے درست بات کہنے کا حق ہے، لیکن درست بات کے نام پر سخت کلامی کرنے کا حق نہیں۔ یہی احساس مجھے بار بار مجبور کرتا تھا کہ میں لوگوں سے اپنے شدتِ کلام کی معافی مانگوں۔

اعظم گڑھ میں جب میں شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا، اُس وقت مجھے اس کالج سے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ میری زندگی کا ایک بے حد سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ 1966 کی بات ہے جب کہ میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا اور انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے حصول میں بہت زیادہ غرق تھا، اُس زمانے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ میں جدید مغربی افکار کو سمجھوں۔ برطانیہ کا مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) کو مغربی فکر کا امام سمجھا جاتا ہے۔ میں نے چاہا کہ میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھوں۔ اس کی تلاش میں میں شبلی کالج کی لائبریری میں گیا۔ وہاں ایک الماری میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کا ایک سیٹ رکھا ہوا تھا۔ میں نے لائبریرین سے کہا کہ میں ان کتابوں کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ بہ یک وقت ان میں سے کتنی کتابیں مجھے دے سکتے ہیں۔ لائبریرین نے کہا کہ یہاں ان کتابوں کو کوئی پڑھتا نہیں ہے، یہ صرف یہاں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ پورا سیٹ لے جائیے ۔ پڑھ کر واپس کر دیجیے گا۔

میں تمام کتابوں کو لے کر واپس اپنے گھر آگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اُس رائٹر کی کتابیں ہیں جو موجودہ زمانے میں سب سے بڑا ملحد (atheist) انسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سن کر میری بیوی متوحش ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ ضرور گم راہ ہو جائیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ برٹرینڈ رسل اس دور کا سخت ترین ملحد ہے۔ اس لحاظ سے، اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام ذوق کے مطابق، خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اُس سے اس طرح نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو چکا تھا۔ برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے جو کچھ پایا، اُس کا مختصر ذکر میں نے اپنی کتاب ”مذہب اور سائنس‘‘ میں کیا ہے۔ یہ کتاب اردو کے علاوہ، عربی اور انگریزی زبان میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page