Al-Risala · May 2009 · page 17

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷

بھی چھپ چکی ہے۔ میرے مذکورہ علمی تجربے کو اس کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اپنی عمر کے ابتدائی دور میں جب میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا تو اکثر میں دارالمصنفین جایا کرتا تھا، جو میرے گھر سے بہت قریب تھا۔ یہ علمی ادارہ مولا نا شبلی نعمانی نے اپنے آخری زمانے میں قائم کیا تھا۔ اس ادارے سے میری دلچسپی کا سبب زیادہ تر دو ہوا کرتا تھا— اہل علم سے ملنا، اور یہاں کے کتب خانے سے استفادہ کرنا۔

اُس وقت مولانا مجیب اللہ ندوی (وفات: 2006) یہاں بہ طور رفیق رہا کرتے تھے۔ ایک بار مولانا مجیب اللہ ندوی سے اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ آدمی کو کب لکھنے کا کام کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے استاد مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953) سے یہ سوال کیا تھا۔ انھوں نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا تھا— اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔ اُس زمانے میں مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی (وفات: 1974) دارالمصنفین کے ناظم تھے۔ وہ یہاں تنہا رہا کرتے تھے۔ اُن کی صرف ایک صاحب زادی تھیں۔ ایک بار انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی تو اُس موقع پر میں نے نہ بارات بلائی اور نہ کوئی اور رواجی کام کیا۔ میں نے ایک لڑکے سے سادہ طور پر اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا۔ اُس وقت میرے بینک کے کھاتے میں پانچ ہزار روپے تھے۔ میں نے پانچ ہزار روپے کا ایک چیک لکھا اور اپنی لڑکی کو دے دیا اور کہا کہ تم لوگ جس طرح چاہو، اس پیسے کا استعمال کرو۔ یہی میری کل پونجی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ نکاح کا بہترین طریقہ ہے۔ مگر اس طرح کی کوئی دوسری مثال میرے علم میں نہیں آئی۔ لوگ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ شادیوں میں بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں ۔ یہ سارا خرچ صرف نمائشی رسموں کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا کوئی فائدہ کسی کو نہیں پہنچتا۔ موجودہ زمانے میں شادیوں میں جس طرح بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں، وہ بلاشبہ تبذیر مال کے ہم معنی ہیں، اور قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جولوگ تبذیر کا کام کریں، وہ شیطان کے بھائی ہیں (الإسراء : 27)۔ اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں میرا سارا وقت کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔ اُس زمانے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page