Al-Risala · May 2009 · page 18

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸

میں میرا حال یہ تھا کہ میں نہ صرف اپنے گھر پر یا لائبریریوں میں کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا، بلکہ راستہ چلتے ہوئے بھی میرے پاس کتاب ہوتی تھی اور دونوں ہاتھ میں لیے ہوئے میں اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ میری عادت تھی کہ میں ہمیشہ ٹریفک اصول کے مطابق، بالکل بائیں طرف (extreme left) چلتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات: 1985) کو معلوم ہوا کہ میں راستہ چلتے ہوئے کتاب پڑھتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ یہ شخص ضرور ایک دن سڑک پر کسی سواری سے ٹکرا کر مرے گا۔

دار المصنفین کا کتب خانہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کوششوں سے قائم ہوا تھا ۔ اس کتب خانے میں قرآن کی عربی تفاسیر، حدیث کی کتابیں اور اسلامی تاریخ کے موضوع پر عربی زبان میں تقریباً تمام مستند کتابیں موجود تھیں ۔ اس طرح مجھے ایک ہی کتب خانے میں اسلام کے بنیادی موضوعات پر گہرے مطالعے کا موقع مل گیا۔

کارل مارکس (وفات: 1883) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے اقتصادیات اور اُس کے متعلق موضوعات کا تفصیلی مطالعہ جرمنی کے کتب خانے میں کیا تھا۔ اُس زمانے میں اُس کے انہماک کا حال یہ تھا کہ صبح کو جب لائبریری کا دروازہ کھلتا تو کارل مارکس پہلا شخص تھا جو اُس کے اندر داخل ہوتا۔ اسی طرح شام کو جب لائبریری کا دروازہ بند ہوتا تو کارل مارکس آخری شخص تھا جو اُس سے باہر نکلتا تھا۔ دار المصنفین کے کتب خانے میں مطالعے کے دوران میرا بھی عرصہ دراز تک یہی حال رہا۔ دوپہر کے وقت لنچ (lunch) کے لیے کتب خانہ بند کیا جاتا تھا۔ میں نے وہاں کے لائبریرین سے کہہ دیا تھا کہ آپ باہر سے دروازہ بند کر کے چلے جائیں اور مجھ کو کتب خانے کے اندر چھوڑ دیں۔ اُس زمانے میں مجھے دوپہر کے کھانے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ اِس بنا پر کبھی کبھی بھوک سے مجھے چکر آ جاتا تھا ۔ اُس زمانے کا ایک واقعہ میں نے اپنی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ میں اِن الفاظ میں نقل کیا ہے : ”دار المصنفین (اعظم گڑھ) کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علم کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہو چکے ہیں اور تمام

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page