Al-Risala · May 2009 · page 19

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹

لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جا چکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے۔ ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اُس وقت میری کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اُس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اٹھا تو کم زوری کی وجہ سے مجھے چکر آ گیا اور میں سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے، مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ کتابوں کی متعلقہ الماری فلاں سمت میں موجود ہے‘‘ (صفحہ 14)۔

دار المصنفین میں ہال نما ایک بڑا کمرہ ہے جس میں دار المصنفین سے متعلق علماء کی تاریخی یادگاریں رکھی ہوئی ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک لکڑی کا پاؤں ہے، جس کو مولا نا شبلی نعمانی نے حادثے کے بعد استعمال کیا تھا۔ 1907 میں ایسا ہوا کہ شکار کے لیے بھری ہوئی بندوق چل گئی جس کی وجہ سے اُن کا بایاں پاؤں شدید طور پر زخمی ہو گیا، اور بالآخر ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق، اُس پاؤں کو کاٹ دیا گیا۔ اِس واقعے کے بعد مختلف شعراء نے حسن تعلیل کے طور پر نظمیں لکھیں۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل نے بھی اس پر کچھ اشعار لکھے تھے۔ اُن کا ایک شعر یہ تھا:

تھا اہلِ عدم کو بھی اشتیاق پابوس اک پاؤں وہاں بھی چاہیے تھا جانا مولانا شبلی نعمانی نے اس طرح کے حسن تعلیل کو پسند نہیں کیا۔ انھوں نے اِس معاملے میں اپنے جذبات کا اظہار اپنے ایک فارسی شعر میں اس طرح کیا تھا:

شبلی نامہ سیہ را بہ جزائے عملش پا بریدند و صدا خاست کہ سرمی باید دوسرے شعراء نے اِس معاملے کو جس طرح نظم کیا تھا، وہ صرف مضمون بندی یا حسنِ تعلیل کے طور پر تھا۔ لیکن مولانا شبلی نعمانی نے اس واقعے پر جو شعر لکھا، وہ اس معاملے میں ایک مومن کے احساسات

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page