Al-Risala · May 2009 · page 25

My way is to begin from the beginning.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۵

اُس زمانے میں یہ پل میرے لیے غارِ حرا کے مانند بن گیا۔ میں صبح و شام یہاں آتا اور پل کی فصیل پر بیٹھ کر سورج کے نکلنے اور سورج کے ڈوبنے کا منظر دیکھتا رہتا۔ پل کے نیچے دریا بہہ رہا ہوتا تھا۔ چاروں طرف دور تک درخت اور کھیت کے سرسبز مناظر تھے جن کے اوپر چڑیاں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اوپر نیلے آسمان کا پرشکوہ منظر ہوتا تھا۔ یہاں میں دیر تک اکیلا بیٹھا رہتا اور فطرت کے مناظر میں کھویا ہوا اُس کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہ پل گویا کہ میرے لیے تلاش حق کے طویل سفر کا ایک ابتدائی مرحلہ تھا۔ فطرت کی یہ دنیا میرے لیے ایک کھلی تربیت گاہ کے ہم معنی بن گئی۔

کنورندی کے اس پل سے آگے بڑھ کر ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے وہ اسکول تھا جس کے سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ڈاکٹر عبد العلی کے خاندان نے ’’درس گاہِ اسلامی‘‘ کے نام سے ایک مکتب قائم کیا تھا۔ اس میں اب کافی تو سیع ہو چکی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم اسی درس گاہ میں ہوئی ۔ میرے بچپن کے زمانے میں یہاں مولا نا فیض الرحمن اصلاحی (وفات: 1972) اُس کے معلم تھے۔ وہ مدرسۃ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات: 1945) کے صاحب زادے تھے۔ اُن سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میرے چچا صوفی عبد المجید خاں (وفات: 1949) نے مزید تعلیم کے لیے مجھے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں داخل کرایا۔

اس گاؤں کے کنارے ہمارے خاندان کے لوگ رہتے تھے۔ یہ ایک بڑا علاقہ تھا جس میں باغ وغیرہ شامل تھا۔ موجودہ زمانے کے تقاضے کے تحت جب ہمارے خاندان کے لوگ گاؤں سے نکل کر شہروں میں چلے گئے تو یہ پورا علاقہ تقریباً غیر آباد ہو گیا۔ میرے بھتیجے مسٹر شکیل احمد خاں انجینئر جو شارجہ میں رہتے ہیں، اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ ہمارے خاندان والوں نے خود تو اپنے بچوں کو پڑھایا، لیکن انھوں نے کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا۔ اب آپ یہ کیجیے کہ ہمارے خاندان کے گھر اور باغ کو ملا کر جو ایک بڑی جگہ موجود ہے، وہاں ایک معیاری اسکول قائم کر دیجیے۔ یہ بات مسٹر شکیل احمد خاں کی سمجھ میں آ گئی ۔ انھوں نے طے کر لیا کہ یہ کام اُنھیں کرنا ہے۔ چناں چہ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page