Al-Risala · May 2009 · page 26

He thought, He founded, He finalized.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶

لمبی کوشش کے بعد 2000ء میں یہاں ایک اسکول کی بنیاد رکھ دی۔ پھر ان کو خود خاندان کے ایک فرد ڈاکٹر احمد صفی انصاری کا مقامی تعاون حاصل ہو گیا، جنھوں نے اپنے آپ کو اس تعمیری کام میں وقف کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہاں ایک اچھا انگلش میڈیم اسکول وجود میں آ چکا ہے۔ اس اسکول کے قیام میں مسٹر یمین الاسلام خاں انجینئر ( صاحب زادہ مولانا اقبال احمد خاں سہیل ) کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ اُن کے تعاون کے بغیر اس کام کو انجام دینا سخت مشکل تھا۔

1971 میں جب میں پاکستان گیا تو وہاں کے ایک اخبار میں میں نے پاکستان کے بارے میں ایک مضمون دیکھا۔ اس مضمون میں ترتیب کے ساتھ تین لوگوں کی تصویر چھپی ہوئی تھی— ڈاکٹر محمد اقبال، محمد علی جناح اور نواب زادہ لیاقت علی خاں۔ ہر تصویر کے سامنے تین جملے الگ الگ لکھے ہوئے تھے : He thought, He fought, He sacrificed. کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے گاؤں کے اس اسکول کا بھی ہے۔ اس اسکول کا تصور راقم الحروف نے دیا۔ اس کے بعد مسٹر شکیل احمد خاں نے اس کی بنیاد رکھی، اور پھر ڈاکٹر احمد صفی انصاری نے اس کو مکمل کیا، اس طرح ان تینوں آدمیوں کو لے کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ :

He thought, He founded, He finalized.

مسٹر شکیل احمد خاں وغیرہ نے اس اسکول کا نام یہ رکھا ہے— ضیاء الدین خاں میموریل اسکول۔ اس اسکول کا الحاق سی بی ایس سی بورڈ (دہلی) سے ہو چکا ہے۔ اس اسکول میں اطراف کے تقریباً 900 لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول کے پاس طلبا کی آمد و رفت کے لیے اس وقت 9 بسیں ہیں، ان بسوں کے ذریعے 70 کلومیٹر کے دائرے میں اطراف کے علاقوں سے طلبا اور طالبات اسکول میں آتے ہیں۔ 31 دسمبر 2008 کو اسکول کا سالانہ جلسہ (annual function) تھا۔ اس کا اسٹیج اسکول کے وسیع کیمپس میں نہایت پُر رونق انداز میں بنایا گیا تھا۔ اس پروگرام میں گاؤں کے لوگوں کے علاوہ، طلبا کے سر پرست اور متعلقین حضرات بھی شریک تھے۔ اس موقع پر اسکول کے طلبا اور طالبات نے مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے ۔ یہ پروگرام اردو اور ہندی کے علاوہ، زیادہ تر انگریزی زبان میں تھے۔ طلبا اور

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page