He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷
طالبات نے غیر معمولی طور پر شان دار انداز میں اس کو پیش کیا، جو بلاشبہ اسکول کے اساتذہ اور ذمہ دار حضرات کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔
یہ فنکشن دیر تک چلتا رہا۔ آخر میں میرا خطاب تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں بہادر شاہ ظفر (وفات: 1862) کے اس شعر کو پڑھا:
فیض گر چاہتا ہے، فیض کے اسباب بنا پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا میں نے کہا کہ ہمارے خاندان نے یہاں یہ چاروں چیزیں بنائیں—پل بھی، کنواں بھی، اور مسجد بھی اور تالاب بھی۔ لیکن یہاں مطلوب رونق پیدا نہ ہوسکی۔ آج یہاں ہر طرف رونق دکھائی دیتی ہے۔ یہ تعلیمی ادارے کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو ہوگئی ہے۔ موجودہ زمانے کے اکثر معاملات تعلیم سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ اس لیے زندگی میں بیداری اور سرگرمی لانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اچھے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔ مولانا الطاف حسین حالی (وفات: 1914) جو سرسید احمد خاں (وفات: 1898) کے شاگرد تھے، انھوں نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے، تعلیم ہی ہے بڑھہریا (بڑہرہ) میرا آبائی وطن ہے۔ لمبے عرصے کے بعد جب میں یہاں آیا تو اس سے متعلق بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں۔ میرے خاندان کی تاریخ یہ ہے کہ تقریباً پانچ سو سال پہلے میرے مورثِ اعلیٰ حسن خاں سوات (قدیم افغانستان) سے گھوڑے پر سوار ہو کر انڈیا آئے۔ پہلے وہ جون پور آئے۔ یہاں ایک افغانی خاندان حکومت کرتا تھا۔ اُس کو شاہانِ شرقی کہا جاتا تھا۔ بعد کو ضیاء الدین خاں کے زمانے میں یہ خاندان جون پور سے اعظم گڑھ آیا اور بڑہریا میں آباد ہوا۔ اسی گاؤں میں میری پیدائش ہوئی۔ جب میں سنِ شعور کو پہنچا تو اکثر میں سوچتا تھا کہ میرے مورثِ اعلیٰ جب افغانستان سے چلے تو راستے میں ان کو برصغیر ہند کے بہت سے بڑے بڑے شہر ملے، لیکن وہ کسی شہر میں آباد نہیں ہوئے، بلکہ چلتے چلتے آخر کار وہ بڑہریا میں آباد ہوگئے جو کہ ایک دور افتادہ (remote) اور غیر ترقی یافتہ گاؤں تھا۔