Al-Risala · May 2009 · page 28

He thought, He founded, He finalized.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸

اُس کی حکمت میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ لیکن اب میں سوچتا ہوں تو اس واقعے میں خدا کی عظیم حکمت دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہمارے مورثِ اعلیٰ کسی بڑے شہر میں آباد ہو گئے ہوتے تو میرا بھی وہی حال ہوتا جو عام طور پر دوسرے مسلم مفکرین کا ہوا ہے۔ اُن کا ذہن شہری حالات کے تحت بنا، فطری حالات میں جو ذ ہن سازی ہوتی ہے، اُس کا انھیں تجربہ نہ ہوسکا۔ اس معاملے پر جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے اپنے حالات میں اور بنواسماعیل کے قدیم حالات میں عجیب مشابہت دکھائی دیتی ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ راستے میں بہت سے شہر ملے، لیکن وہ ان میں سے کسی شہر میں آباد نہیں ہوئے۔ چلتے چلتے وہ قدیم مکہ کے صحرا میں پہنچے اور یہاں ہاجرہ اور اسماعیل کو آباد کر دیا۔ اِسی صحرائی ماحول میں رفتہ رفتہ بنواسماعیل کی نسل بنی جو مخصوص حالات کی بنا پر اپنی اصل فطرت پر قائم تھی۔ اِس نسل سے رسول اور اصحابِ رسول پیدا ہوئے۔ اِسی گروہ میں سے وہ لوگ تیار ہوئے جن کو بدر کے موقع پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ’عصابہ‘ کا لقب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ــــ خدایا، اگر تو اس عصابہ کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی (اللہم إن تهلك هذه العصابة، لا تُعبد في الأرض أبداً) اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے پردے میں ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کے بعد یہ عصابہ بنا ہے، اگر یہ لوگ ہلاک ہو جائیں تو دوبارہ ایک لمبا تاریخی عمل درکار ہوگا۔ اور اِس قسم کا تاریخی عمل اِس دنیا میں کبھی ٹھیک اُسی طرح قابلِ اعادہ (repeatable) نہیں ہوتا۔ بنواسماعیل پر مشتمل عصابہ قدیم روایتی ماحول میں بنا تھا۔ میں جب اپنے حالات پر غور کرتا ہوں تو تعجب خیز طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ میری زندگی میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے اِسی قسم کا عمل نئے حالات کی نسبت سے دوبارہ پیش آیا ہے۔

میرے مورثِ اعلیٰ بھی دور کے ایک ملک افغانستان سے روانہ ہوئے۔ درمیان میں وہ بڑے بڑے شہروں کو چھوڑتے ہوئے ایک دور افتادہ گاؤں (بڈھریا) پہنچے اور یہاں آباد ہوئے۔ قدیم حجاز

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page