Al-Risala · May 2009 · page 29

He thought, He founded, He finalized.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹

جس طرح ایک صحرائے فطرت تھا، اُسی طرح بڈھریہ کا علاقہ بھی ایک صحرائے فطرت کے ہم معنیٰ تھا، اس فرق کے ساتھ کہ قدیم صحرا ایک خشک صحرا تھا، اور موجودہ صحرا ایک سرسبز صحرا۔ بڈھریہ میں میری پیدائش ہوئی تو میرے حالات نے آغاز ہی سے مجھ کو حق کا متلاشی بنا دیا۔ لمبے عرصے کی تلاش کے بعد آخر کار میرے ساتھ دریافتِ حق کا وہ معاملہ ہوا جس کو قرآن میں: و وجدک ضالاً فهدى (الضحیٰ: 7) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اس دریافت کے بعد میں نے اللہ کی توفیق سے اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ ابتدائی طور پر میرے گھر والوں نے میرا ساتھ دیا۔ اُس کے بعد دھیرے دھیرے ایک دعوتی ٹیم بنی جس کے افراد نہ صرف دہلی میں، بلکہ دنیا کے مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ میرے گھر والے اگر میرے لیے بلا تشبیہ اہل بیت ہیں تو میرے ساتھی میرے لیے بلا تشبیہ اصحاب کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس طرح تعجب خیز طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ عصرِ حاضر میں قدیم عصابہ کی طرح ایک جدید عصابہ وجود میں آیا۔ یہ جدید عصابہ استثنائی طور پر دو صفتوں کا حامل ہے۔ ایک طرف حدیث کے الفاظ میں، اس کو بصیرتِ زمانہ حاصل ہے اور دوسری طرف وہ استثنائی طور پر دعوت الی اللہ کا بے آمیز شعور رکھتا ہے۔ جب میں ان باتوں کو سوچتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے خاتمۂ تاریخ (end of history) سے پہلے آنے والے دور میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی واقعہ بن رہی ہے، یعنی اصحابِ رسول کے بعد جدید تاریخ میں غالباً وہ دوسرا گروہ وجود میں آیا ہے جس کو پیغمبرِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوانِ رسول سے تعبیر کیا تھا۔

بڈھریہ میرا مسقطِ رأس (birth place) ہے۔ یکم جنوری 1925 کو جب کہ میں پیدا ہوا، اُس وقت بڈھریہ صرف ایک دور افتادہ (remote) معمولی گاؤں تھا۔ سیاسی سرگرمیاں یا تمدنی ترقیاں ابھی تک یہاں نہیں پہنچی تھیں۔ میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔ یہاں میرے استاذ مولا نا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میرے بچپن اور جوانی کی پوری عمر اسی ماحول میں گزری۔ میری زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں کس طرح دعوت الی اللہ میرا مشن

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page