He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰
بن گیا۔ اُس وقت میرے خاندان میں زیادہ تر شعر و شاعری کا ماحول تھا۔ ہم لوگ اکثریت بازی کیا کرتے تھے۔ 1938 میں میرے چچا صوفی عبد المجید خاں نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں میرا داخلہ کرایا تو یہاں بھی کوئی شہری ماحول نہ تھا۔ مدرسے کا تعلیمی ماحول بھی تمام تر نظم قرآن کے مخصوص فرامہی فکر پر مبنی تھا۔ اس پوری مدت میں کہیں بھی میں نے یہ بات نہیں سنی کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کرنا لازمی طور پر مسلمانوں کی شرعی ذمے داری ہے۔ مدرسے میں اور مدرسے کے باہر میں نے اسلامیات کا جو مطالعہ کیا، اُس میں بھی دعوت کا یہ تصور حذف تھا۔ قرآن کی تفسیروں میں سے کوئی بھی تفسیر دعوت الی اللہ کے تصور کے تحت نہیں لکھی گئی۔ حدیث کے مجموعوں میں جو تراجمِ ابواب ہیں، اُن میں سے کسی بھی کتاب میں دعوت کو ترجمہ باب نہیں بنایا گیا ہے۔ فقہ کے موضوع پر بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سیاسی اور غزواتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ مسلم تاریخ میں جو بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سارے ابواب ہیں، مگر اُس میں دعوت کا باب موجود نہیں۔ مثلاً الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی، وغیرہ کی کتابیں ۔ ایسی حالت میں یہ ایک انتہائی انوکھی بات ہے کہ کس طرح بعد کے دور میں دعوت الی اللہ میری زندگی کا واحد مشن بن گیا۔
اسی طرح میری زندگی کا ایک انوکھا پہلو یہ ہے کہ میرے زمانے میں، مسلم دنیا میں ہر طرف، ادبی ذہن چھایا ہوا تھا۔ ادب اور شاعری کا اسلوب غالب اسلوب کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ ذہن اتنا زیادہ عام تھا کہ اس معاملے میں مسلمانوں کے روایتی طبقہ اور انگریزی داں طبقہ کے درمیان کوئی فرق موجود نہ تھا۔ مسلمانوں کا یہ عمومی ذہن آج تک بدستور قائم ہے۔ ایسی حالت میں یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں کس طرح میں پوری مسلم ملت میں ایک واحد استثنا بن گیا۔ میرے اندر سائنٹفک تھنکنگ پیدا ہوئی ۔ میں نے حوصلہ شکن ماحول میں انگریزی زبان سیکھی ۔ میں نے جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لیے تھا کہ میں عصری ذہن کے سامنے اسلام کی دعوت کو مؤثر انداز میں پیش کر سکوں، حتی کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہی میرا اصل موضوع بن گیا۔ میرے ساتھ یہ جو استثنائی معاملہ پیش آیا، اُس پر جب میں غور کرتا ہوں تو اس کی کوئی بھی تو جیہہ