He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱
اس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ اُس کو قرآن کے الفاظ میں اجتباء (انتخاب) کا ایک معاملہ سمجھا جائے۔ اجتباء کے لفظی معنی ہیں___ چن لینا (to choose) ۔ اجتباء کے بارے میں قرآن کا تصور یہ ہے کہ خدا ، دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے کسی انسان کو چن لیتا ہے ، پھر اُس کے لیے ایسے اسباب فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے میں دعوت الی اللہ کے کام کو مطلوب انداز میں کر سکے۔ دعوت کا کام کوئی سادہ کام نہیں ۔ یہ موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی کا کام ہے ۔ اس قسم کی نمائندگی بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے ۔ یہ کام صرف وہی انسان کر سکتا ہے جس کو خداوند ذوالجلال کی خصوصی نصرت اور توفیق حاصل ہوئی ہو ۔
اجتباء کا لفظ مختلف صورتوں میں قرآن میں 10 بار استعمال ہوا ہے ۔ امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے لکھا ہے کہ قرآن کے مطابق ، اجتباء کا معاملہ پیغمبر اور غیر پیغمبر دونوں کے ساتھ پیش آتا ہے (المفردات، صفحہ 87) ۔ اجتباء کے اس معاملے کا تعلق صُلحاء اور اتقیاء سے نہیں ہے ۔ اُن کا معاملہ ایک مختلف معاملہ ہے ۔ اجتباء کا تعلق دراصل اُس مخصوص عمل سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت قرار دیا ہے (الحج: 40) ، یعنی دعوت الی اللہ کا عمل ۔
میری شخصیت کا ارتقاء جو بڑھریا اور سرائے میر اور اعظم گڑھ جیسے ماحول میں ہوا ، وہ اتنا زیادہ انوکھا ہے کہ بظاہر اس کو اجتباء کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ میری پیدائش کا ایک واقعہ شاید اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ میری والدہ زیب النساء (وفات: 1985) بتاتی تھیں کہ بڑھریا کے گاؤں میں میری پیدائش ہوئی ۔ جس صبح کو میں پیدا ہونے والا تھا ، اُس کی رات کو میری ماں نے یہ خواب دیکھا کہ میں پیدا ہوا ہوں ، پھر ایک بہت بڑا ہاتھی آتا ہے ۔ وہ اپنی سونڈ سے اٹھا کر مجھ کو اپنی پیٹھ پر رکھ لیتا ہے اور مجھ کو جنگل کی طرف لے کر چلا جاتا ہے ۔ میری ماں خواب میں کہتی ہیں کہ دیکھو، اتنا اچھا بچہ تھا اور اُس کو ہاتھی اٹھا لے گیا ۔
اب سوچتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ یہ غالباً بلا تشبیہ اُسی قسم کا ایک واقعہ تھا جس کا ذکر قرآن میں حضرت موسیٰ کے بچپن کے حوالے سے ان الفاظ میں آیا ہے : واصطنعتک لنفسی (طہٰ: 41)