Al-Risala · May 2009 · page 32

He thought, He founded, He finalized.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲

مجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ مذکورہ خواب غالباً اس بات کی علامت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی دعوت کے لیے بچپن ہی سے میرا انتخاب فرما لیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت سے اس حصے کے تمام مرحلے انجام پاتے رہے۔

اس معاملے کا مزید انوکھا پن یہ ہے کہ یہ پورا معاملہ مجھے "کَبّرَنی موتُ الكُبراء" کا مصداق معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں انتہائی قسم کا ایک ضعیف انسان ہوں۔ میں اپنے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنے اندر عجز کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ میری اہلیہ سابعہ خاتون (وفات: 2006) جو 63 سال تک میرے ساتھ رہیں، وہ اکثر میرے بارے میں یہ کہا کرتی تھیں کہ آپ کو لکھنے پڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ ایسے ایک بے قیمت انسان کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ وہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرے اور پھر ایسے اسباب مہیا ہوں کہ یہ لٹریچر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر تمام دنیا میں پھیل جائے۔

میں نے کئی بار اپنے اس احساس کو اپنے ساتھیوں کے سامنے ایک کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے۔ وہ کہانی یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک راجا تھا۔ اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس کا انتقال ہوا تو اس کے بعد یہ سوال ہوا کہ راج گدّی پر کس کو بٹھایا جائے۔ درباریوں نے فیصلہ کیا کہ صبح سویرے ہم لوگ باہر جنگل کی طرف جائیں گے، وہاں پہلا جو انسان ملے گا، اُس کو ہم اپنا راجہ مان لیں گے اور اس کو راج گدی پر بٹھا دیں گے۔ درباریوں نے ایسا ہی کیا۔ صبح سویرے وہ جنگل میں پہنچے تو وہاں اُنھیں ایک غریب لکڑ ہارادکھائی دیا، جو لکڑی چننے کے لیے وہاں آیا تھا۔ درباری اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آج سے تم ہمارے راجا ہو۔ لکڑ ہارے نے کہا کہ میرے ساتھ مذاق نہ کرو، میں تو صرف ایک غریب لکڑ ہاراہوں۔ لیکن درباری نہیں مانے۔ انھوں نے اس لکڑ ہارے کو پکڑا۔ وہ اس کو شاہی محل میں لائے اور اس کو راج گدی پر بٹھا دیا۔

میں نے کہا کہ ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ ایک بالکل بدلا ہوا زمانہ تھا۔ قدیم دور اگر روایتی دور تھا تو موجودہ دور سائنسی دور ۔ ضرورت تھی کہ جدید دور کے اعتبار سے،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page