Al-Risala · May 2009 · page 33

He thought, He founded, He finalized.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳

وقت کے اسلوب میں خدا کے دین کی مؤثر دعوت پیش کی جائے۔ پچھلے دوسوسال کے اندر اللہ تعالی نے مسلم ملت کے اندر بہت سے اعلیٰ دماغ رکھنے والے افراد پیدا کیے۔ ایسے اعلیٰ دماغ اسی لیے پیدا کیے گئے تھے کہ وہ جدید تقاضوں کی روشنی میں اسلامی دعوت کا کام کریں۔ لیکن یہ اعلیٰ دماغ رکھنے والے افراد دوسرے میدانوں میں کود پڑے، وہ خالق کی امید کو پورا نہ کرسکے۔ ایسے حالات میں مذکورہ واقعے کی طرح یہاں بھی شاید یہی معاملہ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم دنیا میں جاؤ اور ایک فلاں’’ لکڑہارے‘‘ کو اس کام کے لیے چن لو اور اس کو ہر قسم کا سپورٹ دو، تا کہ کامل عجز کے باوجود وہ دورِ جدید میں دعوت کا کام انجام دے سکے۔

میں نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہانی بیان کی اور کہا کہ قدیم لکڑ ہارے کا قصہ تو غالباً صرف ایک قصہ تھا، لیکن میرے لیے وہ ایک صد فی صد حقیقت ہے۔ یہ دراصل اس معاملے میں دوسرے اعلی صلاحیت والے افراد کی ناکامی تھی جس نے میرے جیسے عاجز اور بے قیمت انسان کو یہ موقع دیا کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرتیں مجھے حاصل ہوں اور میں دورِ جدید میں دعوت الی اللہ کا مطلوب کام کر سکوں۔ مدرسۃ الاصلاح کے ذمے داروں کو معلوم ہوا کہ میں اعظم گڑھ آرہا ہوں تو انھوں نے ٹیلی فون کے ذریعے مولانا محمد ذکوان ندوی سے ربط قائم کیا۔ اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح کا ایک پروگرام بنا۔ پروگرام کے مطابق، مدرسۃ الاصلاح کے دو اساتذہ مولانا انیس احمد اصلاحی، مولانا سرفراز احمد ندوی بڑھیا آئے ۔ ان کے ساتھ 31 دسمبر 2008 کی شام کو مدرسۃ الاصلاح کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار ہوا۔ ہمارے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم کے افراد بھی شامل تھے۔

مدرسۃ الاصلاح 1908 میں قائم ہوا۔ اس علاقے کے ایک مسلم زمین دار نے مدرسے کے لیے ایک بڑی زمین وقف کردی۔ اسی زمین پر مدرسۃ الاصلاح کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات : 1945) تھے، جو ایک قریبی گاؤں سیدھا سلطان پور کے رہنے والے تھے۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل کے تذکرے کے تحت بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں اُن کی عربی اور فارسی تعلیم کے لیے مولانا محمد شفیع صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میری براہِ راست ملاقات مولانامحمد شفیع صاحب

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page