He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴
سے نہیں ہوئی، البتہ میں اُن کے صاحب زادگان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اُن سے میر کے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اعظمی، مولانا عبد الرحمٰن پرواز اصلاحی، وغیرہ۔ مدرسۃ الاصلاح کے تعارف نامے میں بتایا گیا ہے کہ مولا نا شبلی نعمانی نے اس کے ابتدائی اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کا اجمالی خاکہ تیار کیا۔ مولانا حمید الدین فراہی نے اس کے ابتدائی دور سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بحیثیت ناظم مدرسۃ الاصلاح کی خدمت کی۔ مولانا فراہی نے اس کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کی اور اس کے لیے نصاب تعلیم مقرر کیا۔
مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہونے کے بعد ایک شخص جو پہلی چیز محسوس کرتا ہے، وہ یہاں کی سادگی ہے۔ ہم لوگ مدرسے کے مختلف حصوں میں گئے ۔ ہر جگہ ہم نے نمایاں طور پر جو چیز دیکھی، وہ اس کی سادگی تھی ۔ یہاں کے لوگ بھی سادہ اور متواضع نظر آئے۔ مدرسۃ الاصلاح کا یہ ماحول غالباً اُس کے بانیوں کے تصور کی بنا پر ہے۔ یہ روایت وہاں اب تک باقی ہے۔ مولا نا شبلی نعمانی کو یہاں کی غربت اور سادگی سب سے زیادہ پسند تھی، اور انھوں نے اس کو قائم رکھنے کی سخت تاکید تھی ۔ مولانا حمید الدین فراہی اُس زمانے میں دار العلوم حیدر آباد میں پرنسپل تھے ۔ مولانا شبلی نعمانی نے اُن کو مدرسۃ الاصلاح کے متعلق اپنے ایک خط مورخہ 19 اپریل 1910 میں لکھا کہ : ’’کیا تم چند روز سرائے میرے مدرسے میں قیام کر سکتے ہو۔ میں بھی شاید آؤں۔ اُس کا نظم و نسق درست کر دیا جائے ۔ اُس کو گروکُل کے طور پر خالص مذہبی مدرسہ بنانا چاہیے، یعنی سادہ زندگی، قناعت اور مذہبی خدمت اس کا مطمحِ زندگی ہو‘‘ (مکاتیب شبلی، جلد 2، صفحہ 33)
مجھ کو 1938 میں مدرسۃ الاصلاح میں داخل کیا گیا ۔ اُس وقت یہ مدرسہ چند چھوٹی عمارتوں پر مشتمل تھا۔ اب وہاں کئی بڑی بڑی عمارتیں بن گئیں ہیں۔ مثلاً اُس وقت یہاں کا کتب خانہ (دار المعلومات) صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ اب یہاں کتب خانے کے لیے ایک مستقل عمارت بن گئی ہے جس میں کتب خانہ قائم ہے۔
اس دار المعلومات سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہاں میں تقریباً روزانہ آتا تھا اور کتابوں