He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶
کوئی ذوق پیدا ہوا تھا اور نہ فارسی کا کوئی ذوق۔
1938 میں مجھے مدرسۃ الاصلاح میں داخل کرایا گیا۔ یہاں میں نے دوبارہ عربی اور فارسی ہوئی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے کہ میں اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آگیا ہوں۔ اب ہر مضمون میری سمجھ میں آنے لگا، یہاں تک کہ میں امتحانات میں اچھے نمبر سے پاس ہونے لگا۔ اس ذاتی تجربے سے میں نے یہ جانا کہ تعلیم کے لیے ایک پورا ماحول درکار ہوتا ہے۔ عربی علوم کی تعلیم کے لیے مدرسے کا ماحول ضروری ہے۔ اسی طرح انگریزی علوم کی تعلیم کے لیے کالج اور یونی ورسٹی کا ماحول ضروری ہے۔ انفرادی طور پر پڑھنے سے نہ کسی کو عربی علوم میں درک حاصل ہوسکتا ہے اور نہ انگریزی علوم میں۔ اس عموم میں استثنا ہوسکتا ہے، لیکن ایسا استثنا صرف ایک نادر استثنا (rare exception) ہے۔ مدرسۃ الاصلاح کی زندگی کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو میں نے اپنی کتاب ’’دین وشریعت‘‘ میں درج کیا ہے۔ وہ واقعہ اس طرح ہے:
”غالباً 1940 کی بات ہے۔ ہمارے علاقے میں سخت خشک سالی ہوئی۔ برسات کا موسم گزرتا جا رہا تھا۔ مگر بارش کا کہیں پتہ نہ تھا۔ کسان روزانہ صبح اٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے، مگر بادل کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہ آتا تھا۔ بالآخر جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو یہ تحریک کی کہ استسقاء کی نماز پڑھی جائے۔ مدرسۃ الاصلاح سے تقریباً دو کلومیٹر دور ایک میدان میں مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ اور اطراف کی بستیوں کے مسلمان جمع ہوئے۔ مرحوم مولانا محمد سعید صاحب جو اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں استاد تھے اور جن سے میں نے حدیث پڑھی تھی، انھوں نے استسقاء کی نماز پڑھائی اور آخر میں بارش کے لیے دعا کی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ ہم لوگ سخت چلچلاتی ہوئی دھوپ میں سفر کر کے وہاں پہنچے تھے اور اس حال میں نماز ادا کی تھی کہ جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔ مگر نماز سے فارغ ہو کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو راستے ہی میں بارش شروع ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے درختوں کے نیچے پناہ لی اور کچھ لوگ بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو بھاگے۔ اس تجربے میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں خدا کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔