He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۷
یہ واقعہ میرے اس عقیدہ کا ایک حسی مظاہرہ بن گیا کہ ’’مانگو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو وہ تمھارے واسطے کھولا جائے گا‘‘۔ اس وقت میری عمر 20 سال کے قریب تھی جب کہ انسان چیزوں کو نہایت شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے۔ چناں چہ یہ تجربہ میرے شعور کا مستقل جز بن گیا۔ وہ میری پوری شخصیت میں اس طرح شامل ہو گیا کہ پھر وہ کبھی مجھ سے جدا نہ ہو سکا۔ اس طرح کے تجربات صرف دینی مدرسہ کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ اس طرح مدرسہ علم کے حصول کے ساتھ روحانی تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ مدرسہ کے ماحول میں آدمی کو بار بار اعتماد علی اللہ اور معرفت آخرت کی خوراک ملتی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں تیار ہونے والا انسان علم اور روحانیت دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ یک طرفہ قسم کا انسان، جیسا کہ عام طور پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔ مدرسہ کی یہ تربیت میرے لئے زندگی کے بعد کے دور میں میرا سب سے بڑا سرمایہ بنی رہی۔ کسی بڑے کام کا حوصلہ اللہ پر اعتماد کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی سرمایہ مدرسہ سے مجھ کو حاصل ہوا۔ مجھے اپنے مقصد حیات کے اعتبار سے مادی ذرائع سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا تھا۔ اس قسم کے مشکل فیصلہ پر قائم رہنا میرے لئے زیادہ تر اسی مدرسی تربیت کی بنا پر ممکن ہو سکا۔ احیاء دعوت کا مشن جو میں نے اپنی زندگی میں اختیار کیا، وہ حدیث کی زبان میں معروف دین کے مقابلے میں اجنبی دین کے لئے کھڑا ہونا تھا۔ یہ بلاشبہہ اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل مشن ہے۔ اس میں آدمی کو اکیلا ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔ پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کرنا آسان ہے، مگر اجنبی دین کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ اللہ کے فضل سے میں اس دشوار ترین منصوبے پر ہر قسم کی رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود قائم رہا، یہاں تک کہ فضا تبدیل ہوگئی۔ اس انجام کو دیکھنے کے لئے مجھے 40 سال کا صبر آزما انتظار کرنا پڑا۔ اور اس قسم کا انتظار اعتماد علی اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ ‘‘(صفحہ 145-144) میرے زمانہ تعلیم میں مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998) مدرسۃ الاصلاح کے