He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۸
صدر مدرس تھے۔ میرے تجربے کے مطابق، مولانا موصوف ایک بہترین مدرس تھے۔ وہ اگر مدرسے میں مستقل قیام کرتے تو وہ زیادہ بڑا کام کر سکتے تھے۔ تقسیم ملک (1947) کے وقت وہ پاکستان چلے گئے اور وہیں اُن کا انتقال ہوگیا۔ میرے نزدیک، مولانا موصوف کا مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر پاکستان جانا کوئی درست فیصلہ نہ تھا۔ اگر وہ آخر وقت تک مدرسے میں قیام کرتے تو وہ تعمیرِ افراد کی صورت میں ملت کو زیادہ بڑا فائدہ پہنچا سکتے تھے۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے اندر ایک خاص صفت تھی جو میں نے اپنے تجربے میں کسی اور استاد کے اندر نہیں پائی، وہ ہے تدریس کے دوران ذہنی تربیت کی غذا دیتے رہنا۔ اس نوعیت کا ایک نمایاں واقعہ یہاں راقم الحروف کی کتاب ’’ دین و شریعت ‘‘ سے نقل کیا جاتا ہے: ” مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طور پر داخلِ نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور عالم دین اور مفسر مولانا امین احسن اصلاحی (صاحبِ تدبر قرآن) سے براہِ راست قرآن کی تعلیم حاصل کروں۔ مولانا محترم اُس مدرسے میں استادِ تفسیر بھی تھے اور صدر مدرس بھی۔ ایک روز درسِ قرآن کے دوران قرآن کے تیسویں پارہ کی یہ آیت سامنے آئی: أفلا ينظرون إلى الإبل كيف خلقت (الغاشية: 17)۔ استادِ محترم مولانا امین احسن اصلاحی نے اس موقع پر طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سُم پھٹے ہوتے ہیں یا وہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں، یعنی وہ بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً 20 طالب علم تھے، مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل سے کبھی ایک جواب دیتا اور کبھی دوسرا جواب۔
اس کے بعد استادِ محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سُم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی زبان کا یہ مقولہ سنایا: ”لا أدری‘‘، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا