He thought, He founded, He finalized.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹
کہ اس معاملے میں تمھارے پاس آدھا علم موجود ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لا علمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لئے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے اور پھر تم اپنے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے ۔ ‘‘ (صفحہ 140) مدرسے کا یہ واقعہ میرے لئے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی نا واقفیت کو جانوں، تاکہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (Spirit of Inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سائنسی دریافتوں کا آغاز شبہات (doubts) سے ہوا۔ سائنس داں ایک واقعے کو دیکھتا ہے، پھر اس کے اندر ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ وہ اس کی تحقیق میں لگ جاتا ہے۔ آخر کار وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت (discover) کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ برٹرینڈ رسل کی کتاب ول ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال بھاپ کی طاقت (steam power) کی دریافت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برٹش سائنس داں جارج اسٹیفنسن (George Stephenson) ایک دن اپنے گھر پر تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اس کے گھر والے ایک برتن میں پانی گرم کر رہے ہیں۔ جب اُس کا درجہ حرارت ایک خاص نقطے پر پہنچا تو اندر سے ابال آیا اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن اٹھ گیا۔ اُس کو دیکھ کر جارج اسٹیفنسن اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے جاننا چاہا کہ برتن میں ابال کیوں آیا اور ڈھکن اوپر کیوں اٹھ گیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے وہ اس دریافت تک پہنچا کہ پانی کا درجہ حرارت جب 100 ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے تو پانی کے سالمات (molecules) ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس کے ایٹم (atoms) منتشر ہونے لگتے ہیں۔ اس ایٹمی انتشار (atomic disintegration) سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے، اس کا نام اسٹیم پاور (steam power) ہے۔ جارج اسٹیفنسن نے