پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰
اس ٹیم پاور کو دریافت کر کے اس کو انجن میں استعمال کیا اور اس طرح اس نے پہلی بار 1814 میں ایک دخانی انجن (locomotive) کو چلایا۔
دینی مدارس میں عام طور پر تقدس (holiness) کا مزاج چھایا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں تقدس آیا، وہاں پُر اسراریت آگئی۔ اس ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چیزوں کو مقدس سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اُن پر مزید غور و فکر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس طرح تقدس کا مزاج فکری ارتقا کے لیے قاتل بن جاتا ہے۔ فکری ارتقا کا آغاز شبہہ (doubt) سے ہوتا ہے۔ شبہہ سے آغاز کر کے آدمی حقیقت کی شعوری دریافت تک پہنچتا ہے۔ جہاں شبہہ کو عیب سمجھ لیا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا آغاز بھی نہیں ہوگا۔ مدرسۃ الاصلاح ریلوے لائن کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں یہ ریلوے لائن برٹش دور میں 1901 میں بچھائی گئی تھی۔ میرے ایک استاد مولانا نور الہدی اصلاحی (وفات: 1972) تھے، وہ شاعر بھی تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ہماری کلاس چل رہی ہے۔ اس دوران ریلوے اسٹیشن سے انجن کی سیٹی کی آواز آئی اور پھر مخصوص آواز کے ساتھ ٹرین چلنے لگی۔ اُس وقت مولانا نور الہدی اصلاحی اپنا یہ شعر پڑھتے تھے:
پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
اُس زمانے کا جو ماحول تھا، اُس کی یہ ایک مثال ہے۔ اپنی نوجوانی کی عمر میں، میں ریلوے کے بارے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ جان سکا۔ بعد کو میں نے جواہر لال نہرو (وفات: 1969) کی کتاب (آٹو بياگرافی) پڑھی۔ اُس میں مصنف نے لکھا تھا کہ انگریزوں نے انڈیا میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے، وہ ریلوے نہیں ہے، بلکہ یہ لوہے کی زنجیریں ہیں۔ ان کو انگریزوں نے انڈیا کو اپنی غلامی میں جکڑنے کے لیے بچھایا ہے۔
آزادی سے پہلے کے دور میں، میں ریلوے کے بارے میں اتنا ہی جان سکا تھا۔ اُس زمانے میں ہر طرف اسی قسم کی منفی باتیں چھائی ہوئی تھیں جو دوسروں کی طرح میرے ذہن کی بھی کنڈیشننگ کر رہی تھیں۔ بعد کو جب میں نے براہِ راست طور پر چیزوں کا مطالعہ کیا تو میں نے ذاتی دریافت کے