پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱
ذریعے یہ جانا کہ برٹش جونو آبادیاتی نظام کے تحت انڈیا میں آئے، وہ ایک تاریخی عمل کا جز تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انڈیا میں اُن کا آنا جدید سائنس اور انگریزی زبان کا انڈیا میں آنا تھا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب (The Discovery of India) میں لکھا ہے کہ عرب جو ہندستان میں آئے، وہ یہاں ایک شان دار کلچر(brilliant culture) لے کر آئے۔ اسی طرح برٹش جو انڈیا میں آئے، وہ انڈیا میں ایک شان دار سائنس لے کر آئے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُن کا انڈیا میں آنا تاریخ کا ایک مثبت واقعہ تھا، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی منفی واقعہ۔
انڈیا میں جو بڑے بڑے عربی مدارس ہیں، اُن سب میں مشترک طور پر ایک نقص پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ یہ تمام مدارس، تعلیم برائے مسلک کے اصول پر قائم کیے گئے ہیں۔ جب کہ صحیح یہ ہے کہ مدارس کو تعلیم برائے تعلیم کے اصول پر قائم کیا جائے ۔ ہر مدرسے کا اپنا ایک مسلک ہے اور یہی مسلک اس کی تمام تعلیمی سرگرمیوں میں چھایا رہتا ہے ۔ مدرسۃ الاصلاح کا اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔ مدرسۃ الاصلاح کا مسلک مولانا حمید الدین فراہی کے تصورِ نظمِ قرآن پر قائم ہے۔ نظمِ قرآن کی الگ سے جو بھی حیثیت ہو، لیکن اس کو مدرسے کا مسلک قرار دینا ہرگز درست نہیں۔
اہلِ علم عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طور پر تعصب اور کٹر پن کا مزاج ہوتا ہے، جب کہ کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طور پر تعصب اور کٹرپن کا مزاج نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہی ہے کہ مدارس میں "تعلیم برائے مسلک" کا اصول رائج ہے، جب کہ سیکولر ادارے "تعلیم برائے تعلیم" کے اصول پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ "تعلیم برائے مسلک" کا ایک بہت بڑا نقصان ہے، وہ یہ کہ ان اداروں میں آزادانہ تفکیر کا ماحول نہیں ہوتا۔ اور آزادانہ تفکیر کا خاتمہ ہمیشہ ایک بھاری قیمت پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایسے ماحول میں تخلیقی فکر (creative thinking) ختم ہو جاتی ہے۔ تخلیقی فکر کا نشو و نما نہ پانا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی دوسری چیز سے ممکن نہیں۔
مدرسۃ الاصلاح سے رات ہی کو ہم لوگ بڑھ کر واپس آئے، جو تقریبا تین میل کے فاصلے پر واقع