پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
ہے۔ ہم نے بڑھریا میں رات گزاری۔ یکم جنوری 2009 کی صبح کو ہم لوگ قافلے کی صورت میں چھاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چھاؤں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور یہاں کئی گھنٹے قیام کیا۔ چھاؤں، ضلع اعظم گڑھ کا ایک گاؤں ہے۔ یہاں کا پروگرام مسٹر شکیل احمد خاں نے بنایا تھا۔ پروگرام کے مطابق، ہم کو چھاؤں میں کچھ دیر قیام کرنا تھا۔ چھاؤں میں ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ میرے ساتھیوں نے چاہا کہ میں اس کو دیکھوں اور اس کو اپنے سفر نامے میں شامل کروں۔ چھاؤں تک پختہ سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی چلتے ہوئے مسٹر شاہد کے فارم ہاؤس پر پہنچی۔ یہ فارم ہاؤس 18 بیگہ زمین کے رقبے پر بنایا گیا ہے۔ اُس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ میں نے دہلی کے آس پاس کئی فارم ہاؤس دیکھے ہیں، مگر یہ فارم ہاؤس مجھے اُن سے بہتر نظر آتا ہے۔ یہاں پر ایک وسیع اور خوب صورت تالاب ہے۔ مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں کے درخت یہاں موجود ہیں۔ شہروں جیسی فضائی آلودگی (air pollution) یہاں موجود نہیں۔ خالص ہوا، سنہری دھوپ، فطرت کا ماحول اور مکمل سکون، اس طرح کی چیزوں نے اس مقام کو جنت کا ایک تعارف بنا دیا ہے۔ فضا میں اُڑتی ہوئی چڑیاں اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔ یہاں میں نے ماحول کی نسبت سے کچھ باتیں کہیں جو ویڈیو کی صورت میں اُسی وقت ریکارڈ کر لی گئیں۔ مسٹر شاہد کے بھائی مسٹر ظہیر الاسلام یہاں موجود تھے، انھوں نے ہمارے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا۔
میں نے کہا کہ مسٹر شاہد میرے عزیز ہیں۔ اُن کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔ بعض اسباب کی بنا پر وہ گھر کو چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے۔ اُس وقت ظاہری اعتبار سے اُن کے پاس نہ بزنس کرنے کے لیے کوئی سرمایہ تھا اور نہ سروس کرنے کے لیے کوئی ڈگری۔ بظاہر وہ کسی خصوصی صلاحیت کے مالک بھی دکھائی نہ دیتے تھے۔ بمبئی پہنچ کر انھوں نے ایک مزدور کی حیثیت سے اپنا کام شروع کیا، اور وہ تھا گھروں میں پینٹنگ (painting) کرنا۔ وہ اپنا کام نہایت محنت اور توجہ کے ساتھ کرتے تھے۔ چناں چہ اُن کا کام بڑھا، یہاں تک کہ انھوں نے اپنی کمپنی بنا لی۔ اب اُن کا یہ کام ایک بڑے کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اُن کا کام اتنا اچھا ہوتا ہے کہ ہر طبقے کے لوگ ان سے اپنا کام لینا پسند کرتے