پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳
ہیں۔ اپنے کام کے اعتبار سے اُن کو مارکیٹ میں زبردست اعتماد حاصل ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ مسٹر شاہد کے اندر اخلاقی صفات بھی پوری طرح پائے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کمائی کو فضول ضائع نہیں کیا۔ انھوں نے اپنے آبائی گاؤں (چھاؤں) میں جدید طرز کا ایک فارم ہاؤس بنایا۔ یہ فارم ہاؤس ایک قسم کی صحت گاہ ہے۔ یہاں پہنچ کر آدمی اپنے آپ کو فطرت کی دنیا میں پاتا ہے۔ یہاں منفی احساسات اور ذہنی ٹنشن جیسی چیزیں اپنے آپ ختم ہو جاتی ہیں۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے یہاں چند گھنٹے گزارے۔ میں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ فارم ہاؤس خاموش زبان میں ایک پیغام دے رہا ہے، وہ یہ کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کی ترقی کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ ضرورت صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر دانش مندی اور منصوبہ بند عمل کا ثبوت دیا جائے تو اس ملک میں ہر قسم کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہندوستان میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہاں کے مسلمان کیا کریں۔ میں کہوں گا کہ مسلمان صرف یہ کریں کہ وہ خدا کا شکر ادا کریں۔ مسلمانوں کے لیڈروں نے پچھلے سو سال کے اندر مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل سے دوچار کیا ہے۔ لیکن خدا کی اس دنیا میں مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی نادانی اس کا خاتمہ نہیں کرتی۔ چناں چہ مسلم رہنماؤں کی مسلسل نادانیوں کے باوجود اب بھی یہاں قیمتی مواقع موجود ہیں جن کو استعمال کر کے مسلمان ہر قسم کی ترقی حاصل کر سکیں۔ اس صورتِ حال میں مسلمانوں کو صرف شکر کرنا ہے۔ شکایت اور احتجاج جیسی چیزوں کے لیے یہاں کوئی جواز موجود نہیں۔ یکم جنوری 2009 کو جب کہ میں چھاؤں کے اس فارم ہاؤس میں بیٹھا ہوا تھا، گاؤں کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ وضع قطع کے لحاظ سے بظاہر وہ خوش حال دکھائی دیتے تھے۔ حسبِ معمول میں نے اُن سے کہا کہ اپنے کچھ تجربات بتائیے۔ انھوں نے کہا تجربات کیا، آپ کو معلوم ہے کہ آج کل مسلمانوں کے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں۔ میں نے ان سے زیادہ بات نہیں کی۔
میں سوچنے لگا کہ مثبت واقعات کے درمیان آدمی منفی بات کیوں کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے