Al-Risala · June 2009 · page 22

غیر دعوتی ذہن کا نقصان

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲

غیر دعوتی ذہن کا نقصان

ایک حدیث میں آیا ہے کہ کامل ایمان اُس شخص کا ہے جس کی نفرت اور جس کی محبت صرف خدا کے لیے ہو جائے (سنن أبي داؤد، کتاب السنة)۔ غیر دعوتی ذہن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کے لیے نفرت اور محبت کا معیار (criterion) بدل جاتا ہے۔ ایمان کے نام سے وہ خود ایمان ہی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

جس آدمی کے اندر داعیانہ ذہن ہو، وہ اپنے آپ کو داعی کی نظر سے دیکھے گا اور دوسروں کو مدعو کی نظر سے۔ دوسروں سے اس کے تعلق کی بنیاد دعوتی مصلحت ہوگی، نہ کہ کوئی اور مصلحت۔ مثلاً انگریز جب برصغیر ہند میں آئے تو دعوتی ذہن کا تقاضا تھا کہ اُن کو مدعو کی نظر سے دیکھا جائے ۔ ایسا کرنے سے مسلمانوں کے اندر خیر خواہی کا ذہن پیدا ہوتا۔ لیکن انھوں نے انگریز کو دشمن کی نظر سے دیکھا، کیوں کہ انھوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس بنا پر وہ مسلمانوں کے لیے نفرت کا موضوع بن گئے۔ اُن کا حال یہ ہو گیا کہ جو آدمی انگریزوں سے نفرت کی بات نہ کرے، وہ اُن کی نظر میں دشمن کا ساتھی بن گیا۔ وہ اُس سے بھی اُسی طرح نفرت کرنے لگے جس طرح وہ انگریز سے نفرت کرتے تھے۔

یہی معاملہ عرب دنیا میں پیش آیا۔ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں جب یہودی تارکین وطن (Jews in diaspora) فلسطین میں آئے تو وہ عربوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے۔ اگر عرب اُن کو مدعو کی نظر سے دیکھتے تو ان کے اندر اپنے مدعو کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہوتا۔ لیکن ان عربوں نے یہود کو دشمن کی نظر سے دیکھا، اس لیے وہ یہود سے نفرت کرنے لگے، اور اسی کے ساتھ وہ اُس شخص سے بھی نفرت کرنے لگے جو یہود کے بارے میں نفرت کی بولی نہ بولے۔

یہی معاملہ آزادی کے بعد ہندوستان میں پیش آیا۔ یہاں ایسا ہوا کہ 1949 میں ہندوؤں نے ایودھیا کی مشہور بابری مسجد کے اندر بت رکھ دیا۔ اس کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نزاع پیدا ہوئی ۔ یہ نزاع بڑھتی رہی، یہاں تک کہ 1992 میں کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو ڈھا دیا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page