Al-Risala · June 2009 · page 23

غیر دعوتی ذہن کا نقصان

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳

اور اس کی جگہ عارضی مندر بنا دیا۔ اگر مسلمان، ہندوؤں کو اپنا مدعو سمجھتے تو اُن کے اندر منفی ردعمل کی نفسیات نہ پیدا ہوتی۔ لیکن انھوں نے ہندوؤں کو دشمن قرار دے کر اُن سے نفرت کرنا شروع کر دیا۔ اب مسلمانوں کا معیار یہ بن گیا کہ جو شخص ہندوؤں کے خلاف نفرت کی بولی نہ بولے، وہ بھی اُسی طرح قابلِ نفرت ہے جس طرح کہ ہندوان کے نزدیک قابلِ نفرت بنے ہوئے ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں جو سب سے بڑی برائی پیدا ہوئی ہے، وہ یہی غیر داعیانہ ذہن ہے۔ اس غیر داعیانہ ذہن کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ ان کی نفرت اور محبت کا معیار بدل گیا۔ وہ قومی بنیاد پر کسی کو اپنا دشمن بنا لیتے ہیں۔ وہ اُس سے نفرت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اُس سے نفرت کریں۔ جو شخص اُن کے مفروضہ دشمن سے نفرت نہ کرے، یا نفرت کی بولی نہ بولے، وہ ان کی نظر میں اتنا ہی مبغوض ہو جاتا ہے جتنا کہ ان کا مفروضہ دشمن ان کے لیے مبغوض بنا ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے علماء کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اس غیر داعیانہ ذہن کو ختم کرنے کے لیے اپنی ساری کوشش لگا دیں۔ ان کے فتوے، ان کی تقریریں، اُن کی تحریریں، اُن کے پروگرام، ان کی مجالس کی گفتگو، سب کی سب اسی ایک برائی کی اصلاح پر مرتکز ہو جائیں۔ برائی کی یہی وہ قسم ہے جس کے بعد، قرآن کے الفاظ میں انسان کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں۔ بظاہر وہ دینی عمل کرتا ہے، لیکن اس کو خدا کی نصرت حاصل نہیں ہوتی۔

مسلمان کی سب سے بڑی ذمے داری یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا کام کرے ۔ دعوت الی اللہ کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مدعو کی زیادتیوں پر صبر کیا جائے۔ صبر کے بغیر دعوتی کام کی انجام دہی ممکن نہیں۔ قرآن میں داعی کی زبان سے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں: ولنصبرن علی ما اذیتمونا (ابراہیم: 12) یعنی تمھاری زیادتیوں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ ہم صبر کرتے ہوئے اپنا دعوتی کام انجام دیتے رہیں گے، باقی تمھارا جو ظلم و ستم ہے، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ ہماری ذمے داری ہے صبر کے ساتھ دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ادا کرنا، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے عمل کے مطابق، ان کا محاسبہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page