Even a minor change in any species would
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳
بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جب زمین کی عمر دریافت کی گئی تو ارتقاء پسند علماء کو محسوس ہوا کہ اُن کا نظریہ موجودہ زمین کی نسبت سے قابل عمل ہی نہیں ہے۔ اب انہوں نے قدیم نظریہ ارتقاء میں ایک اور تصور کا اضافہ کیا۔ انھوں نے یہ نظریہ قائم کیا کہ زندگی کی ابتدائی صورت زمین کے سوا کسی اور سیارہ (planet) پر ظہور میں آئی، پھر وہاں سے سفر کر کے وہ زمین پر پہنچی اور زندگی کا اگلا تر قیاتی عمل موجودہ زمین پر پیش آیا۔ اس نظریے کو اصطلاحی طور پر پینس پرمیا (panspermia) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک نئی دوڑ شروع ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد خلائی سائنس (space science) کا زمانہ آگیا۔ اسی کے ساتھ الیکٹرانک دوربینیں ایجاد ہو گئیں ۔ چناں چہ ایسے خلائی راکٹ بنائے گئے جن پر طاقت ور الیکٹرانک دوربینیں نصب تھیں ۔ یہ راکٹ زمین سے اوپر خلا میں بھیجے گئے۔ زمین سے کافی بلندی پر گردش کرتے ہوئے انھوں نے کائنات کے بعید ترین حصوں کے فوٹو لیے اور اُن کو زمین پر بھیجا۔ ان تصویروں کو کمپیوٹر کو محفوظ کر لیا گیا۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری زمین کے سوا کہیں بھی کوئی دوسرا سیارہ ایسا موجود نہیں ہے جہاں زندگی جیسی چیز نشوونما پا سکے ۔ اس طرح پینس پرمیا کا نظریہ عملی طور پر ختم ہو گیا ۔
اب یہ سوال تھا کہ زمین کی محدودیت کے اندر مفروضہ ارتقائی عمل کس طرح وقوع میں آیا۔ اس سوال کو حل کرنے کے لیے دوبارہ ایک نئی تحقیق شروع ہوئی ۔ اس تحقیق میں کئی اعلیٰ سائنس داں شامل تھے ۔ اب اس تحقیق کے نتائج امریکہ کے مشہور جنرل نیچر (Nature) میں شائع کیے گئے ہیں ۔ اس تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (13 فروری 2009) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ نظریہ ارتقاء کے بارے میں اس قسم کی تحقیق جرمنی اور کینیڈا، وغیرہ میں بھی ہوئی ۔ اس تحقیق کے نتائج مجلہ سائنس (Science) کے شمارہ 13 فروری 2009 میں شائع ہوئے ہیں۔
ارتقاء کے بارے میں نئی ریسرچ ارتقاء کے اصل سوالات کو حل نہیں کرتی ۔ وہ صرف یہ کرتی ہے کہ نظریہ ارتقاء کی توجیہہ کے لیے ایک نیا ٹیکنکل لفظ (technical term) دیتی ہے ۔ ارتقاء کا روایتی تصور تبدیلیوں (mutations) کے اصول پر قائم تھا، یعنی نسل در نسل چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے جمع
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues