Al-Risala · June 2009 · page 34

Even a minor change in any species would

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴

ہونے سے ایک نوع کا دوسری نوع کا دوسری نوع کی صورت اختیار کر لینا ۔ کلاسکل تبدیلی (classical mutation) کا نظریہ اس سوال کا جواب نہیں دیتا تھا کہ خود یہ تبدیلی کیسے واقع ہوتی ہے۔ کیوں کہ کسی بھی ریسرچ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ بے شمار تبدیلیاں تدریجی (gradual) طور پر اپنے آپ ہو سکتی ہیں۔ نئی ریسرچ نے صرف یہ کیا ہے کہ اُس نے آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کرتے ہوئے وہ نظریہ وضع کیا جس کو انھوں نے جنیناتی تبدیلی (genetic change) کا نام دیا ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلی تدریجی انداز میں نہیں ہوئی، بلکہ انفجاری انداز میں ہوئی: These are like volcanoes in the تاہم اس نئی ریسرچ کے بعد بھی اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ یہ ریسرچ مفروضہ طور پر جو کچھ بتاتی ہے، وہ صرف تبدیلیوں کے وقوع کی مفروضہ تو جیہہ ہے، نہ کہ اس بات کی توجیہہ کہ زمین کی محدود مدت میں بے شمار تبدیلیاں کیسے وقوع میں آئیں۔ ہماری زمین کی محدود مدت کی نسبت سے یہ نئی’’تحقیق‘‘ بھی اتنی ہی ناکافی ہے، جتنا کہ قدیم کلاسکل تو جیہہ۔

نظریہ ارتقاء کا یہ دعویٰ ہے کہ واحد الخلیہ (single cellular) امیبا میں تبدیلیاں ہوئیں، اس کے بعد وہ کثیر الخلیہ (multi-cellular) حیوان بن گیا۔ مچھلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ چڑیا بن گئی۔ بکری کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی۔ بلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بندر کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا۔ مذکورہ نئی تحقیق صرف یہ کرتی ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو تدریجی نوعیت کی تبدیلی قرار دینے کے بجائے اُن کو انفجاری نوعیت کی تبدیلی بتاتی ہے۔ مگر اس نئی ’’تحقیق‘‘ کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ ان گنت تبدیلیوں (countless changes) کے اس عمل کے لیے جو بے حد لمبی مدت درکار ہے، موجودہ سیارۂ ارض پر ان کا وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ سیارۂ ارض کی عمر معلوم طور پر اُس سے بہت زیادہ کم ہے جو کہ ان مفروضہ تبدیلیوں کے لیے درکار ہے۔ اس ’’تحقیق‘‘ میں ارتقائی عمل کے لیے درکار مطلوب مدت کے مسئلے کو اس طرح حل کیا گیا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page