سوال جواب
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴
سوال
راقم آج کل ’’ تذکیر القرآن‘‘ کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہے۔ الرسالہ کو پڑھ کر مختصرایہ محسوس ہوا کہ آپ ایک انسان کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے معاملات میں ہر صورت میں خود ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ہر مسئلے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کا درس دیتے ہیں۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب کہ فریقین باہمی رضامندی سے مسئلہ فساد کو مٹانے کی نیت رکھتے ہوں اور زور اور کم زور کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ (سید غلام احمد بخاری، پیروہ، کشمیر) جواب میں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ میں نے اپنے ذاتی خیال کے طور پر نہیں لکھا ہے، بلکہ خدا کے مقرر کردہ قانون فطرت کے حوالے سے لکھا ہے۔ ہم جس دنیا میں ہیں، اُس دنیا کو خدا نے بنایا ہے۔ یہ خود خدا ہے جس نے اس دنیا کے لیے قوانین مقرر کیے ہیں۔ ہمارے لیے کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم خدا کے قانون کو دریافت کریں اور اُس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔
قرآن کا مطالعہ کیجیے تو قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اجتماعی مسئلہ پیش آئے تو آدمی کو سب سے پہلے خوداپنی غلطی کو دریافت کرنا چاہئے۔ اپنی غلطی کو دریافت کرکے اس کی اصلاح کرنا، یہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ تمھارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے، وہ صرف تمھارے اپنے کیئے کا نتیجہ ہوتی ہے (الشورى: 30)۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی (آل عمران: 120)۔ اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ شکایت اور احتجاج کا ذہن سرتا سرایک غیر فطری ذہن ہے۔ شکایت اور احتجاج پر مبنی تحریکوں سے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ کیوں کہ ایسی تحریکیں خدا کے نقشے کے خلاف ہیں۔ ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی روش پر نظر ثانی کریں۔ داخلی محنت اور پرامن تدبیر کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے سوا جو طریقہ ہے، وہ صرف ایک خود ساختہ طریقہ ہے، اور ایسے خود ساختہ طریقوں سے خدا کی مدد ملنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues