سوال جواب
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۴۶
5- نئی دہلی کے میتری کالج (Maitrey College) کے ہال میں 10 فروری 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کے خطاب کے لیے کیا گیا۔ پروگرام کا موضوع Islam and Terrorism تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس پروگرام میں شرکت کی اور قرآن اور حدیث کی روشنی میں موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ سی پی ایس کے افراد بھی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر دیا۔ یہ لڑکیوں کا ایک کالج ہے۔ پورا ہال طالبات اور ٹیچروں سے بھرا ہوا تھا۔ سامعین نے ہمارے ساتھیوں سے قرآن کی کاپیاں حاصل کیں ۔ قرآن کے نسخے ختم ہو جانے پر انھوں نے اپنے پتے لکھ کر دیے اور کہا کہ اس پتے پر آپ ہم کو قرآن کی کاپیاں بھجوا دیں۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ 6- نظام الدین ویسٹ ایسوسی ایشن (نئی دہلی) کے ہال میں 21 فروری 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (نئی دہلی) کے ممبران کی ایک خصوصی میٹنگ پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر سی پی ایس کی ٹیم کے لوگوں نے حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر دیا۔
7- شری ستتی سائی سیوا آرگنائزیشن (نئی دہلی) کی طرف سے 28 فروری 2009 کو سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے مین آڈی ٹوریم میں ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام سائی یونی ورسٹی کے فارغین کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا - Unity of Faiths اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس کے صدر میٹر چیف مارشل این سی سوری تھے۔ انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں مائیک سے یہ اعلان کیا کہ آپ لوگ قرآن کو پڑھ کر اسلام کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں۔ اس اعلان کے بعد حاضرین نے سی پی ایس کے افراد سے قرآن کا انگریزی ترجمہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، ان لوگوں کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ 8- آل انڈیا امام آرگنائزیشن (نئی دہلی) کی طرف سے 7 مارچ 2009 کو غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا موضوع یہ تھا ـــ کل ہند تنظیم ائمہ مساجد کا نفرنس اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کسی وجہ سے اس میں شرکت نہ کر سکے ۔ تاہم الرسالہ مشن سے وابستہ کچھ افراد اس پروگرام میں شریک ہوئے اور انھوں نے مہمانان خصوصی اور ائمہ حضرات کو تذکیر القرآن (اردو) کا ایک ایک نسخہ بطور ہدیہ دیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے شرکاء کو مطالعے کے لیے اردو اور ہندی میں چھپا ہوا اسلامی لٹریچر دیا۔ مثلاً مقصد حیات، اور ستیہ کی کھوج، وغیرہ۔ حاضرین نے اس کو شوق سے لیا۔
9- ایک خط : میں بہت دن سے سوچ رہا تھا کہ الرسالہ مشن سے متعلق اپنے تاثرات آپ کو تحریر کروں۔ میں الرسالہ کا سال 1991 سے قاری ہوں۔ آپ کی کتابوں کا خاصہ ذخیرہ میرے پاس موجود ہے۔ ابھی حال ہی میں میں نے ایک مسجد سیٹ اور دوسرا مدرسہ سیٹ منگوا کر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہے۔ الرسالہ کے ایک ایک سال کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues