All fame and glory is for God alone.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۵
لیٹ گیا۔ اُس وقت میں آنکھ بند کئے ہوئے تھا۔ گاڑی نہایت تیز رفتاری کے ساتھ چل رہی تھی۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے گاڑی ٹھہری ہوئی ہے۔
یہی سادہ طور پر نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) ہے۔ ہم چیزوں کو صرف ان کی اضافی نسبت کے اعتبار سے جانتے ہیں۔ مثلاً اگر میں اُس وقت گاڑی میں بیٹھا ہوا ہوتا اور باہر کی طرف دیکھ رہا ہوتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ گاڑی تیزی کے ساتھ دوڑ رہی ہے۔ چوں کہ باہر کے مناظر ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان گاڑی تیزی سے چلی جا رہی تھی۔ حرکت اور ٹھہراؤ کے درمیان اس تقابل کی بنا پر میں محسوس کرتا کہ میں تیزی کے ساتھ سفر کر رہا ہوں۔ لیکن جب میں نے آنکھیں بند کر لیں تو اُس وقت میں نسبتی مشاہدہ نہیں کر رہا تھا۔ اس لیے مجھے اپنی ذات کی نسبت سے یہی محسوس ہو رہا تھا کہ گاڑی ٹھہری ہوئی ہے۔
ہم لوگ دہلی ائر پورٹ پر پہنچے تو وہاں کافی بھیڑ نظر آئی۔ یہاں ہم لوگوں نے فجر کی نماز ادا کی۔ میرے ساتھی بورڈنگ کارڈ اور سامان کی بکنگ کے لیے ائر انڈیا کی ونڈو پر چلے گئے۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیااور ائرپورٹ کے اندر کے مناظر دیکھنے لگا۔ میرے سامنے کی کرسی پر ایک عورت اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ بچہ رونے لگا تو عورت اس کو لے کر کھڑی ہوئی اور بچے کو گود میں لے کر اس کو چپ کرانے لگی۔
یہ منظر دیکھ کر مجھے حالیہ فلم (Slumdog Millionaire) کا ایک مکالمہ یاد آیا جو مجھ کو کسی نے بتایا تھا۔ اس مکالمے میں ایک دولت مند آدمی ایک غریب بچے سے کہتا ہے کہ میرے پاس دولت ہے، میرے پاس شہرت ہے، میرے پاس کار اور بنگلہ ہے، میرے پاس شان دار جاب ہے۔ تمھارے پاس کیا ہے۔ اس کو سن کر بچہ آہستگی کے ساتھ جواب دیتا ہے: میرے پاس ماں ہے۔
یہ سوچتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری زبان سے نکلا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ اس بھری ہوئی دنیا میں کوئی شخص یہ کہنے والا نہیں کہ ــــ میرے پاس خدا ہے۔ انسان کو خدا نے پیدا کیا۔ جو کچھ انسان کے پاس ہے، وہ سب کا سب خدا کا دیا ہوا ہے۔ مگر یہی سب سے بڑی حقیقت کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues