Al-Risala · July 2009 · page 6

No Second Chance.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۶

لوگ مخلوق کو جانتے ہیں، لیکن خالق کو جاننے والا کوئی نہیں۔ اگر کچھ لوگ خدا کا نام لیتے ہیں تو اُن کے دل میں بھی خدا کے لیے وہ عظیم اعتراف موجود نہیں جو سمندری طوفان کی طرح سینے سے ابل پڑے۔ پانچ بڑے کارٹن (carton) میں ہمارے ساتھ چھپا ہوا اسلامی لٹریچر موجود تھا۔ اس کو ائرپورٹ پر چیک ان (check in) کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ہمارے ساتھیوں نے اپنے بیگ میں بھی کتابیں رکھ لی تھیں ۔ یہ کتابیں اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں تھیں۔ لٹریچر کی تقسیم کی صورت میں ائرپورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی دعوہ ورک شروع ہو گیا ۔ ہمارے ساتھی جس کو بھی لٹریچر دیتے، وہ اس کو دھنیہ واد، یا تھینک یو کہہ کر خوشی کے ساتھ قبول کر لیتا۔ قرآن کے مطابق، یہ لسانِ قوم (ابراہیم : 4) میں دعوت پہنچانے کے ہم معنی تھا۔

دہلی سے احمد آباد کے لیے ائر انڈیا کی فلائٹ (7617 CD) کے ذریعے روانہ ہوا۔ پہلے اس کا نام انڈین ائر لائنز ہوتا تھا۔ اب انڈیا کی دونوں سرکاری ہوائی کمپنیوں ائر انڈیا اور انڈین ائر لائنز کو ملا کر اُن کا مشترک نام ائر انڈیا (Air India) کر دیا گیا ہے۔

جہاز کے اندر مطالعے کے لیے مختلف اخبارات موجود تھے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (25 فروری 2009) کے صفحہ 3 پر ایک اشتہار چھپا ہوا تھا۔ یہ ایک تعلیمی ادارہ (MBA Career Launcher) کا اشتہار تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے ادارے کے ذریعے ایم بی اے کا کورس کرو اور اعلی ترقی سے ہم کنار ہو۔ اس اشتہار کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا— دوسرا موقع ملنے والا نہیں:

No Second Chance.

اِس اشتہار میں مذکورہ ادارے کا دعویٰ تو ایک غلط دعویٰ تھا۔ کیوں کہ دنیا میں انسان کو دوسرا موقع (second chance) بار بار ملتا رہتا ہے۔ البتہ ایک اور پہلو کے بارے میں یہ بات یقیناً درست ہے، اور وہ آخرت کا پہلو ہے۔ آخرت کے اعتبار سے ہر عورت اور مرد کو صرف ایک بار موقع ملتا ہے اور وہ قبل از موت دورِ حیات کا موقع ہے۔ بعد از موت دورِ حیات میں کسی کو دوسرا موقع ملنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page