No Second Chance.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۷
اس فلائٹ کے کیپٹن مسٹر ولیم تھے۔ وہ خالص امریکی لہجے میں انگریزی بول رہے تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے اُن کو ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) مطالعے کے لئے دی۔ یہ ایک چھوٹا جہاز تھا۔ اس میں صرف دو ائر ہوسٹس کام کر رہی تھیں۔ اُن دونوں کو بھی ریلیٹی آف لائف دی گئی۔ انھوں نے شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کیا۔
دہلی سے احمد آباد کا فاصلہ 916 کلومیٹر ہے۔ سوا گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز احمد آباد کے ائیر پورٹ پر اتر گیا۔ احمد آباد ائیر پورٹ ایک قدیم ائیر پورٹ ہے۔ لیکن اب اس کو نئے سرے سے زیادہ اچھا بنایا گیا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے ائیر پورٹ کے عملے کو مطالعے کے لیے دعوتی پمفلٹ دیے۔ ائیر پورٹ پر مسٹر اروند کمار پنکی دو گاڑیوں کے ساتھ ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ احمد آباد سے مہوا تک کا سفر ہمیں بذریعہ کار طے کرنا تھا۔
احمد آباد گجرات کا مرکزی شہر ہے۔ اس کو سلطان احمد شاہ (وفات: 1443) نے 1411 میں آباد کیا تھا۔ انھیں کے نام پر اس کو احمد آباد کہا جاتا ہے۔ احمد آباد کے لیے میرا پہلا سفر 1971 میں ہوا تھا۔ یہ میرا پہلا ہوائی سفر تھا۔ اُس وقت میں پہلی بار انڈین ائیر لائنز کے ذریعے احمد آباد سے دہلی آیا تھا۔ اس سفر نامے کی روداد اُس زمانے میں الجمعیۃ ویکلی (نئی دہلی) کے شمارہ 10 ستمبر 1971 میں شائع ہوئی تھی۔ اس سفر نامے میں سا برمتی آشرم (قائم شدہ: 1917) کا ذکر کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:
”رولٹ کمیٹی کی سفارشات (Rowlatt committee's recommendations) شائع ہوئیں، جس میں ہندوستان کے لئے ڈومی نین اسٹیٹس Status) کا فیصلہ کیا گیا تھا، گاندھی جی نے اس فیصلے کو تو ہین آمیز محسوس کیا۔ چناں چہ ان کی تحریک کے تحت، اپریل 1919 کو اس کے خلاف سول نافرمانی (civil disobedience) کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس سلسلے میں احمد آباد اور دوسرے مقامات پر جو مظاہرے ہوئے، اُن میں عوام نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ گاندھی جی کو ستیہ گرہ کی رو سے اس معاملے سے بہت تکلیف پہنچی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues