Al-Risala · July 2009 · page 8

No Second Chance.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۸

انھوںنے کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک اٹھانا ہمارے لئے ایک عظیم قسم کا غلط اندازہ (Himalayan miscalculation) تھا۔ چناں چہ انھوں نے فوراً سول نافرمانی کی تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ‘ (صفحہ 5)۔

اسی قسم کا تجربہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کے ساتھ بار بار پیش آیا ہے۔ پچھلے دو سو سال کے اندر مسلم رہنماؤں نے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھائیں۔ یہ تمام تحریکیں بلا استثناء اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ ناکامی کا یہ واقعہ عرب دنیا میں بھی پیش آیا اور غیر عرب دنیا میں بھی۔ اس ناکامی کا سبب مشترک طور پر یہ تھا کہ جن مسلم عوام کی بنیاد پر یہ تحریکیں اٹھائی گئی تھیں، وہ مسلم عوام اس قسم کی تحریک کے لئے فکری اور اخلاقی اعتبار سے بالکل تیار نہ تھے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس اعتبار سے ایک غیر تربیت یافتہ گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، نہ کہ تربیت یافتہ گروہ کی حیثیت۔ مگر دو سو سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ایک مسلم رہنمانے بھی اپنی غلطی کا کھلا اعلان نہیں کیا۔ مسلم رہنماؤں کی اسی بے اعترافی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تباہ کن سیاست کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ نتیجے کے اعتبار سے شدید ناکامی کے باوجود ابھی تک اُس کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔ ہم لوگ ائر پورٹ سے باہر آئے تو ہمارے ساتھ ذاتی سامان کے علاوہ، کتابوں کے پانچ بڑے بڑے کارٹن (carton) تھے۔ یہ سب اسلامی لٹریچر تھا جن کو ہم اجتماع میں لوگوں کو دینے کے لیے لے جا رہے تھے۔ مسٹر اروند کمار پنکی جو کہ ایک صنعت کار ہیں اور اسی کے ساتھ وہ مراری باپو کے شاگرد ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ ساتھ تھے۔ ائر پورٹ پر میں نے دیکھا کہ مسٹر پنکی نہایت شوق سے کتابوں کے بنڈل اٹھا اٹھا کر گاڑی میں رکھ رہے ہیں۔ یہی منظر دوبارہ مجھے سد بھاؤنا فورم کے کنونشن میں پہنچ کر دکھائی دیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ غیر مسلم حضرات نہایت شوق کے ساتھ ہماری کتابوں کو لوگوں کے درمیان تقسیم کررہے تھے۔ اس قسم کا منظر مجھے بار بار ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہونے والی کانفرنسوں میں دیکھنے کو ملا ہے۔

یہ بلاشبہ ایک نیا ظاہر ہ ہے۔ قدیم زمانہ مذہبی تعصب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں ایسا ہونا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page