Al-Risala · July 2009 · page 9

Doing Dawah work by the support of Madʻu.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۹

ممکن نہ تھا کہ ایک مذہب کے لٹریچر کو دوسرے مذہب کے لوگ ذوق و شوق کے ساتھ دوسروں کو مطالعے کے لئے دے رہے ہوں۔ مذہبی رواداری کا یہ ماحول جدید سائنسی انقلاب کے بنا پر وجود میں آیا ہے۔ قدیم زمانے میں اگر متعصب ہونا کسی آدمی کے لیے اس کے مذہبی ہونے کی علامت ہوتا تھا تو موجودہ زمانے کی قابلِ تعریف بات یہ بن گئی ہے کہ آدمی مذہب کے معاملات میں غیر متعصب ہو۔ وہ ہر ایک کی مذہبی آزادی کا احترام کرے۔

اس طرح کے منظر کو دیکھ کر میرے اندر غیر معمولی شکر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ خدایا، تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے اس کو ممکن بنا دیا کہ دعوت کا کام خود مدعو کے تعاون سے کیا جائے:

Doing Dawah work by the support of Madʻu.

احمد آباد سے ہمارا قافلہ دو کاروں کی صورت میں مہوا کے لیے روانہ ہوا۔ یہ تقریباً پانچ گھنٹے کا سفر تھا۔ یہ سفر ہمارے لیے کوئی تفریحی سفر نہ تھا، بلکہ وہ ایک تربیتی سفر کے ہم معنی تھا۔ اس اعتبار سے اس کو متحرک کلاس (class on wheel) کہا جا سکتا ہے۔ سفر کے دوران جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج کل ساری دنیا کے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اسلام خطرے میں نہیں، بلکہ مسلمان خود اپنی نادان سیاست کے نتیجے میں خطرے میں ہیں:

Muslims are in danger due to their unwise policies. احمد آباد کا شہر سا برمتی دریا کے کنارے واقع ہے۔ احمد آباد ائر پورٹ سے تقریباً آدھا گھنٹہ سفر کرنے کے بعد مشہور سابر متی آشرم آیا۔ یہاں ہم لوگ آشرم کو دیکھنے کے لیے کچھ دیر ٹھہرے۔ یہ آشرم سابر متی دریا کے کنارے ایک وسیع رقبے میں قائم ہے۔ وہ نہایت سادہ اور منصوبہ بند انداز میں بنایا گیا ہے۔ پورے آشرم میں نظم اور صفائی اور سرسبزی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے آشرم کے اندر اپنا دعوتی کام جاری رکھا۔ انھوں نے یہاں کے لوگوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page