Al-Risala · July 2009 · page 10

Doing Dawah work by the support of Madʻu.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰

ستیہ کی کھوج“ نامی ہندی پمفلٹ دیا۔ اس کے علاوہ، وہاں باہر کے کچھ ٹورسٹ آئے ہوئے تھے، اُن کو انگریزی میں چھپا ہوا پمفلٹ ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) مطالعے کے لیے دیا گیا۔ اس آشرم میں گاندھی جی کی بہت سی یادگاریں موجود ہیں۔

سابرمتی آشرم جولائی 1917 میں قائم ہوا۔ مشہور ڈانڈی مارچ (12 مارچ 1930) گاندھی جی نے اِسی آشرم سے شروع کیا تھا۔ اُس وقت 40 آدمیوں کا قافلہ یہاں خیمے کے اندر رہتا تھا۔ اب یہ آشرم شہر سے مل گیا ہے۔ مگر اُس وقت وہ شہر سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ آشرم کا خاص مقصد اُس وقت دستی کرگھے کے ذریعے سوتی کپڑا تیار کرنا تھا۔

سابرمتی آشرم دیکھنے کے بعد ہم لوگ مہوا کے لیے روانہ ہوئے۔ احمد آباد سے مہوا تقریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سڑک ہائی وے نمبر 2 (2 highway no) تھی۔ سڑک اچھی اور چوڑی بنی ہوئی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کھیتوں کے سرسبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ زیادہ تر کپاس کے کھیت تھے جس میں روئی (cotton) کے پھول صاف طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ کپاس کے علاوہ یہاں گندم اور پیاز کی فصل بھی نظر آرہی تھی۔ اس طرح گویا کہ یہ سفر دو چیزوں کے دوران طے ہو رہا تھا۔ ایک طرف، سڑک اور کار جو صنعتی تہذیب کی علامت ہے۔ اور دوسری طرف، سرسبز کھیت جو فطرت کے عطیات کا مشاہدہ کرا رہے تھے۔ پہلا منظر یہ کہہ رہا تھا کہ تاریخ میں انسان کے کنٹری بیوشن (contribution) کا اعتراف کرو۔ اور دوسرا منظر یہ دعوت دے رہا تھا کہ خالق کے عطیات کو محسوس کرتے ہوئے خالق کا اعلیٰ شکر ادا کرو۔

اس طرح کے پُر کیفیت ماحول میں ہماری گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اتنے میں ہمارے ڈرائیور صاحب نے گاڑی کے اندر اے سی چلا دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ماحول میں بے جا دخل اندازی کر دی ہو۔ میں نے کہا یہ مشینی اے سی بند کر دیجیے اور گاڑی کا شیشہ کھول دیجیے، تا کہ فطرت کا اے سی ہم تک پہنچنے لگے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ گاڑی یا گھر کے باہر اچھی ہوا چل رہی ہے، لیکن لوگ کھڑیوں کو بند کر کے اے سی چلاتے ہیں اور اِس کے اندر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page