Doing Dawah work by the support of Madʻu.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱
یہ موجودہ زمانے کا اے سی کلچر (AC Cultrue) ہے ۔ میں اس اے سی کلچر کو سخت ناپسند کرتا ہوں ۔ موجودہ زمانے میں اس اے سی کلچر کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر فطرت (nature) سے دور اور مشینی تمدن سے قریب ہو گئے ہیں ۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ وہ مشینی ترقیوں کی تعریف کرتا رہتا ہے ، لیکن خدا کی عظیم تر رحمتوں کے لیے کسی کے سینے میں شکر و اعتراف کا سر چشمہ جاری نہیں ہوتا ۔
راستے میں ہماری گاڑی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل پر ٹھہری ۔ اس کا نام ملن رستورنٹ تھا۔ یہ ایک ہندو کا ہوٹل تھا۔ اس علاقہ کا نام دھند کا (Dhanduka) ہے۔ دھند کا ایک گاؤں ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں 14 مسجدیں ہیں۔ یہاں قابلِ لحاظ تعداد میں مسلمان موجود ہیں۔ ہوٹل کی ایک کرسی پر ایک حافظ صاحب اپنے ہاتھ میں قرآن لئے ہوئے نظر آئے ۔ وہ آہستہ آواز میں وہاں بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنا نام حافظ محمد اسماعیل بتایا۔ وہ یہاں کی ایک مسجد میں امام ہیں۔
ہوٹل کے سامنے پان کی ایک دکان تھی۔ وہاں ریکارڈ بج رہا تھا۔ یہ غالباً قوالی تھی۔ اس میں بار بار یہ الفاظ دہرائے جا رہے تھے ۔ یہ سب خواجہ کا کرم ہے۔ ایک طرف یہ ریکارڈ تھا اور دوسری طرف ہمارے ساتھ چلنے والے مسٹر اروند کمار پنکی کا یہ حال تھا کہ ہر موقع پر وہ کہتے تھے کہ یہ سب باپو کی کرپا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی مولا نا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ آج کل کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ، دونوں میں سے کسی کو بھی خداوند ذوالجلال کی خبر نہیں۔ دونوں صرف غیر خدا کی عظمت کو جانتے ہیں۔ دونوں کے قومی بڑے عملاً اُن کے لیے خدا کا درجہ رکھتے ہیں ، دونوں کے درمیان صرف تسمیہ(nomenclature) کا فرق ہے ، مسلمانوں کے قومی بڑوں کا نام عربی اور فارسی زبان میں ہے ، اور ہندوؤں کے قومی بڑوں کا نام ہندی اور سنسکرت زبان میں ۔
سڑک کے دونوں طرف تعمیراتی سرگرمیوں کے مناظر دکھائی دئے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے مندر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues